حیاتِ نور

by Other Authors

Page 282 of 831

حیاتِ نور — Page 282

۲۸۲ ارم تاثرات شائع فرمائے چونکہ ان میں حضرت مولوی صاحب کا بھی ذکر ہے اس لئے انہیں درج ذیل کیا جاتا ہے۔وہ لکھتے ہیں: میں نے اور کیا دیکھا۔قادیان دیکھا۔مرزا صاحب سے ملاقات کی۔مہمان رہا۔میرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکریہ ادا کرنا چاہئے۔میرے منہ میں حرارت کی وجہ سے چھالے پڑ گئے تھے اور میں شور غذا ئیں کھا نہیں سکتا تھا۔میرزا صاحب نے (جبکہ دفعتا گھر سے باہر تشریف لائے تھے ) دودھ اور پاؤ روٹی تجویز فرمائی۔آجکل مرزا صاحب قادیان سے باہر ایک وسیع اور مناسب باغ میں (جو خود انہیں کی ملکیت ہے ) قیام پذیر ہیں۔بزرگان ملت بھی وہیں ہیں۔قادیان کی آبادی قریباً تین ہزار آدمیوں کی ہے مگر رونق اور چہل پہل بہت ہے۔بلند عمارت بستی میں صرف ایک ہی ہے رہتے کچے اور نا ہموار ہیں اکرام ضیف کی صفت خاص اشخاص تک محدود نہ تھی۔چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بھائی کا سا سلوک کیا۔خصوصاً مولانا حاجی حکیم نورالدین صاحب جن کے اسم گرامی سے تمام انڈیا واقف ہے اور مولا نا عبدالکریم صاحب جن کی تقریر کی پنجاب میں دھوم ہے اور مولوی مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر جن کی تحریروں سے کتنے انگریز یورپ میں مسلمان ہو گئے ہیں۔" میاں عبدالحئی صاحب کے ختم قرآن کی تقریب ۳۰ / جون ۱۹۰۵ء حضرت خلیفتہ اسیع الاول کا وہ بچہ جس کی پیدائش کی حضرت اقدس نے ۱۸۹۴ ء میں پیشگوئی کی تھی اور ۱۵ار فروری ۱۸۹۹ء کو پوری ہوئی تھی۔اس نے جب چھ سال کی عمر میں حضرت پیر منظور محمد صاحب مصنف قاعدہ یسرنا القرآن سے قرآن کریم ناظرہ ختم کر لیا تو ۳۰ جون ۱۹۰۵ء بروز جمعته المبارک اس کی خوشی کی تقریب منعقد کی گئی۔آپ کے حرم اول کی وفات ۲۸ / جولائی ۱۹۰۵ء حضرت مولوی صاحب کے حرم اول جن کا نام فاطمہ تھا۔۲۸؍ جولائی ۱۹۰۵ء بروز جمعہ بعد نماز جمعہ اس دار فانی سے رحلت فرما گئیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون