حیاتِ نور — Page 281
۲۸۱ ـور ہو جائیں گی۔چنانچہ دو چار روز کے بعد آنکھیں تندرست ہو گئیں اور حضرت ماسٹر صاحب قلمی جہاد میں مصروف ہو گئے۔چنانچہ آپ نے لکھا اور خوب لکھا۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب کی مدد سے آپ نے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا میں مسلمان ہو گیا یعنی اختیار الاسلام۔اس کتاب پر حضرت مولوی صاحب نے جور یو یو کیا وہ درج ذیل ہے: ”جہانتک مولا کریم نے مجھے فہم عطا کیا ہے میں دلیری سے اس کہنے کی جرات کرتا ہوں کہ حق کے طالب ایک طرف ترک اسلام اور دوسری طرف ” میں مسلمان ہو گیا پڑھیں۔غالباً ناظرین کو یقین ہوگا کہ حق کیا چیز ہے اور حق کی پیاس کیا چیز ہے؟ اور اس کے نتائج کیا چیز ہیں؟ نور الدین“۔۵۲ زلزلہ کانگڑہ پر آپ کا مضمون لکھنا ۴۲ را پریل ۱۹۰۵ء کو جب کانگڑہ میں زبردست زلزلہ آیا تو اس موقعہ پر حضرت خلیفہ مسیح الاول نے اخبار میں ایک مضمون لکھا۔جس میں لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی تلقین کی۔اور اس امر پر افسوس کیا کہ سینکڑوں جانوں اور بیش بہا سامان کا نقصان ہوا۔مگر اس امر پر خوشی کا اظہار بھی فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے مسیح کی زلزلوں سے متعلق پیشگوئی پوری ہوئی جو متعدد بار سلسلہ کے اخبارات میں شائع ہو چکی تھی اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم کو بھی ارشاد فرمایا کہ آپ بھی اس پر کچھ لکھیں۔زلزلہ کے بعد باغ میں قیام اپریل مئی جون ۱۹۰۵ء ۱۴ اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے بعد جس نے کانگڑہ اور اس کے اردگرد کے علاقہ میں سخت تباہی چائی تھی۔حضرت اقدس نے معہ اہل و عیال کچھ عرصہ کے لئے اپنے باغ میں سکونت اختیار کر لی تھی اور دوستوں کو بھی ارشاد فرمایا تھا کہ سب باغ میں چلے آویں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسی الاول ، حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور دیگر حضرات نے بھی باغ ہی میں خیمے لگا کر رہنا شروع کر دیا تھا۔حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کا مطب اور درس القرآن سب باغ میں ہی ہونے لگے۔مہمان بھی و ہیں تشریف لاتے تھے۔مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم کے بھائی ابوالنصر آہ بھی انہی ایام میں تشریف لائے تھے اور باغ میں ہی قیام فرمایا تھا۔انہوں نے واپسی پر امرتسر جا کر اخبار وکیل میں جو اپنے