حیاتِ نور

by Other Authors

Page 280 of 831

حیاتِ نور — Page 280

ـور ۲۸۰ دلانے میں بھی بہت حد تک حضرت مولوی صاحب کا حصہ ہے۔حضرت مولوی صاحب آپ کو جموں سے ماہوار وظیفہ بھیجا کرتے تھے۔ان کی شادی بھی آپ ہی نے کروائی۔اس کا قصہ بھی عجیب ہے۔حضرت خلیفہ نورالدین صاحب جونی جو ایک مخلص صحابی تھے اور قوم کے غوری مغل تھے، انہوں نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں اپنی لڑکی کے رشتہ کے لئے کسی موزون لڑکے کے متعلق عرض کیا۔آپ نے حضرت ماسٹر صاحب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔یہ میاں عبد الرحمن ایک مخلص اور نیک لڑکا ہے۔اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟ حضرت خلیفہ صاحب اور ان کی اہلیہ صاحبہ دونوں کی یہ رائے تھی کہ یہ غریب آدمی ہے اس کا نہ کوئی آگا ہے نہ پیچھا، نہ گھر نہ گھاٹ ، اس کے کمرہ میں صرف ایک چٹائی ، ایک لوٹا اور ایک چار پائی ہے وبس۔ہماری لڑکی رہے گی کہاں؟ چنانچہ جب خلیفہ صاحب نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں اس رائے کا اظہار کیا تو آپ نے بڑے زور سے پنجابی زبان میں فرمایا: میاں نورالدین صاحب! جے تے تہاڑی لڑکی دے بھاگاں وچ کچھ ہے تے اوہ خالی گھر وچ جا کے وی اونوں بھر دے گی۔تے جے اوہدے بھاگاں وچ کجھ نہیں تے اوہ بھرے گھر وچ جا کے بھی اوہنوں خالی کر دے گی“۔حضرت مولوی صاحب کے یہ الفاظ سن کر حضرت خلیفہ صاحب نے فوراً یہ رشتہ منظور کر لیا۔اس شادی سے حضرت ماسٹر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اولاد دی اور اولاد بھی ایسی کہ سب میں خدمت دین کا ایک خاص جوش پایا جاتا ہے۔انہی ماسٹر صاحب کا ذکر ہے کہ ایک مرتبہ ان کی آنکھیں بیمار ہو گئیں۔حضرت مولوی صاحب نے بہت علاج کیا مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔بلکہ بیماری دن بدن ترقی کرتی گئی۔آخر ایک دن آپ نے فرمایا ”میاں خطرہ ہے تمہاری آنکھیں ضائع نہ ہو جائیں۔ماسٹر صاحب آپ کی یہ بات سن کر بہت گھبر ائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔سارا ماجرا کہہ سنایا۔حضور نے فرمایا: میں نے کہا تھا کہ نو مسلم سلسلہ کے متعلق کچھ لکھیں۔آپ نے کچھ لکھا کہ نہیں؟“ ماسٹر صاحب فرماتے ہیں۔میں نے کہا حضور! میں نے ارادہ کیا ہوا ہے اور انشاء اللہ خوب لکھوں گا۔مگراب آنکھوں میں سخت تکلیف ہے۔اس وقت نہیں لکھ سکتا۔حضور نے فرمایا: نیت کر لو۔خدا توفیق دے گا۔اور ہم انشاء اللہ دعا کریں گے۔آنکھیں ٹھیک