حیاتِ نور

by Other Authors

Page 279 of 831

حیاتِ نور — Page 279

۲۷۹ عارفانہ جواب ۱۹ دسمبر ۱۹۰۲ء کا ذکر ہے کہ حضرت اقدس نماز ظہر کے لئے مسجد میں تشریف لائے۔حضرت مولوی صاحب بیمار تھے۔حضور نے آپ کی علالت طبع کا حال خود آپ سے دریافت فرمایا اور غذا کے اہتمام کی تاکید فرمائی۔آپ نے عرض کی کہ حضور! ہر چند کوشش کی جاتی ہے مگر قدرت کی طرف سے کچھ ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں کہ جس سے انتظام قائم نہیں رہتا۔شاید ارادہ الہی ابھی اس امر کا خواہاں نہیں ہے کہ آرام ہو۔اس اثنا میں ایک صاحب جن کو حضرت مولوی صاحب سے نہایت محبت اور اخلاص اور نیاز مندی کا تعلق تھا، بول اٹھے کہ آخر تدبیر کرنی چاہئے۔قرآن شریف میں آیا ہے فَالْمُدَتِرَاتِ أَمْراً۔اس پر آپ نے ایک نہایت ہی عارفانہ جواب دیا کہ یہاں مؤنٹ کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔فَالْمُدَ بِرُونَ اَمْرًا نہیں فرمایا۔جس سے ظاہر ہے کہ اس کا بڑا تعلق اناث سے ہے اور ان میں ضرور نقص ہوتا ہے۔بہر حال یہ ایک عجیب نکتہ ہے جو آپ نے بیان فرمایا۔اس بحث کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی دلچسپی سے سنا اور پھر خوراک کا انتظام ایک خاص صاحب کے سپرد فرما کر زبان سے ارشاد فر مایا کہ یہ لوگ سنتے ہیں اور گواہ ہیں کہ ہم نے اب تم کو ذمہ دار بنا دیا ہے۔اب اس کا ثواب یا عذاب تمہاری گردن پر ہے۔چونکہ احتیاط اور علاج کے باوجود بھی حضرت مولوی صاحب کی طبیعت کئی روز تک علیل رہی جس کی وجہ سے قرآن کریم کا درس بھی آپ کو ملتوی کرنا پڑا۔اس لئے حضرت اقدس نے آپ کی صحت کے لئے کثرت سے دعا شروع کی۔4 جنوری ۱۹۰۳ ء کو جب آپ مسجد میں تشریف لائے تو فرمایا کہ میں 59 دعا کر رہا تھا کہ یہ الہام ہوا: إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِشِفَاءٍ مِنْ مِثْلِهِ اس کے بعد چند روز کے اندر ہی آپ بالکل تندرست ہو گئے۔فالحمد للہ علی ذالک ۵۰ حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب سابق مہر سنگھ کی کتاب بر ریویو ۱۰ر جنوری ۱۹۰۵ء استاذی المکرم حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی۔اے ( سابق سردار مہر سنگھ ) ایک نہایت ہی مخلص اور پر جوش مبلغ اسلام تھے۔گو پیشہ تو آپ کا مدرسی تھا لیکن تبلیغ میں جنون رکھتے تھے۔آپ کو تعلیم