حیاتِ نور

by Other Authors

Page 265 of 831

حیاتِ نور — Page 265

۲۶۵ حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ وائس پریزیڈنٹ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ، سیکر یٹری خواجہ کمال الدین صاحب اور اسسٹنٹ سیکریٹری مولوی محمد علی صاحب قرار پائے اور دوسرے روز یعنی یکم اپریل ۱۹۰۱ء کو جب اس انجمن کا اجلاس ہوا۔تو رسالہ کا نام ریویو آف ریلیجنز “ تجویز ہوا۔رسالہ مذکور کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لئے انجمن کا ابتدائی سرمایہ دس ہزار روپیہ قرار پایا۔جس کی فراہمی کے لئے ہزار حصے مقرر کئے گئے اور ہر حصہ دس روپے کا تجویز ہوا۔انجمن کی بنیاد کے دو ہفتہ کے اندر اندر اس کے ۷۷۵ حصص فروخت ہو گئے۔حضرت مولوی صاحب نے ایک سو ساٹھ قصص خریدے جو سب سے زیادہ تھے۔حضرت اقدس کے ساتھ گورداسپور تشریف لے جانا پیچھے ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت اقدس کے چازاد بھائیوں مرزا امام الدین صاحب اور مرزا نظام الدین صاحب نے جماعت احمدیہ پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے لئے مسجد مبارک کے آگے ایک دیوار کھچوادی تھی تا احمدی احباب نماز کے لئے مسجد میں نہ جاسکیں۔ان کو اس اقدام سے باز رکھنے کے لئے حضرت اقدس نے ہر رنگ میں کوشش کی مگر جب وہ کسی طرح بھی باز نہ آئے تو مجبور احضرت اقدس کو ان کے خلاف عدالت میں چارہ جوئی کرنا پڑی اس مقدمہ میں فریق ثانی کی درخواست پر حضرت اقدس بغرض شہادت مورخه ۱۵ جنوری ۱۹۰۱ء کو گورداسپور تشریف لے گئے اور حضرت مولوی صاحب کو بھی ساتھ چلنے کے لئے ارشاد فرمایا۔" الدار میں قیام مارچ اور اپریل ۱۹۰۲ ء میں جب پنجاب میں طاعون کا زور ہوا۔تو حضرت اقدس کو طاعون سے محفوظ رہنے کے لئے منجملہ اور الہامات کے ایک الہام یہ بھی ہوا کہ انى احافظ كل من في الدار کہ جولوگ تیرے گھر کی چاردیواری کے اندر ہوں گے میں ان کی حفاظت کروں گا۔اور گو مراد اس سے یہی تھا کہ جو لوگ صدق دل سے سلسلہ کی تعلیمات کو مشعل راہ بنا ئیں گے وہ طاعون سے محفوظ رکھے جائیں گے۔لیکن حضور نے ظاہر پر عمل کرنے کے لئے بعض خاص احباب کو اپنے گھر میں بھی جگہ دیدی جن میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ایک ہندو کو مسلمان بنانے کے لئے اسلام کی تلقین اوائل جون ۱۹۰۲ء میں ایک ہندو نوجوان نے اسلام قبول کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و