حیاتِ نور — Page 266
ـور ۲۶۶ و السلام نے حضرت مولوی صاحب کو ارشاد فرمایا کہ مولوی صاحب! آپ اسے اسلام کی تلقین کریں آپ نے جن الفاظ میں اسے اسلام کی تعلیم سے آگاہ فرمایا۔وہ یہ تھے: اسلام کیا چیز ہے؟ تین باتوں کا نام ہے۔اول جس نے پیدا کیا اور جس کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے اس کو ایک مانا جاوے۔اس کے سوا نہ کسی کو سجدہ کیا جاوے، نہ اس کے نام کے سوا کسی کا روزہ رکھا جاوے اور بنہ اس کے نام کے سوا کسی جانور کو ذبح کیا جاوے کیونکہ جانوں کا مالک وہی ہے اور نہ اس کے سواکسی ہ طواف کیا جاوے اور کوئی خوف اور امید اس کے سوا کسی کا نہ کیا جاوے یہ تو لا الہ الا اللہ کے معنی ہیں۔سارے دکھ ، سارے سکھ ، سارے آرام اور ضرورتوں کا پورا کرنا اس کے اختیار میں ہے۔اس کے حضور عرض کرنا چاہئے۔ان باتوں کو بچے دل سے مان لیں تو اس کا نام اسلام ہے۔اس کے لئے کسی ظاہری رسم اور اصطباغ کی ضرورت نہیں۔دوسرا زینہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کا نبی مانا جاوے۔وہ اس لئے دنیا میں بھیجے گئے تھے کہ خدا تعالیٰ ہی کی عظمت اور تعریف اور استی کریں اور لوگوں کو بھی سکھائیں۔اسی لئے دوسرا جز و اسلام کا محمد رسول اللہ ہے۔رسول کے معنی ہیں خدا کا بھیجا ہوا۔تیسری بات اسلام کی یہ ہے کہ سب مخلوق کو سکھ پہنچانے کی کوشش کریں یہ تو منہ سے کہنے اور مانے کی باتیں ہیں اور پھر یہ بھی ماننا چاہئے کہ خدا کے فرشتے حق ہیں۔نبیوں اور کتابوں پر ایمان لائے اور اس بات پر بھی کہ جو کریں گے اس کا بدلہ پائیں گے اس کو جزا سزا کہتے ہیں۔ان باتوں کے ماننے کے بعد ضروری ہے کہ مسلمان نماز پڑھے اور روزہ کے دن ہوں تو روزہ رکھے۔جب ۵۲ روپے ہوں تو چالیسواں حصہ زکوۃ کے طور پر غریبوں اور مسکینوں کی مدد کے لئے دے پھر اور طاقت ہو تو مکہ معظمہ جا کر خدا کی بندگی کرے۔اصل اسلام دل سے مان لینے کا نام ہے۔جو بچے دل سے مان لیگا اور عمل بھی اس کے مطابق کرے گا ( وہ مسلمان ہے ) پس تم دل سے لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ کو مان لو۔اس کے لئے نہ کسی رسم کی ضرورت ہے نہ کچھ اور البتہ نہا لینا چاہئے اس لئے کہ دعا مانگو کہ اے اللہ ! او پر سے تو ہم جسم کو دھوتے مارم