حیاتِ نور — Page 258
۲۵۸ -۲ -Y کے حسن ظنی کا تذکرہ تھا، اور بھی فرحت وسرور ملا۔قریب تھا کہ میں حاضر ہوتا۔اس اثناء میں ایک کتاب شمس الہدایہ“ نام مجھے آج رات دیکھنے کا اتفاق ہوا۔صفحہ ۴۰ تک رات کو پڑھی۔جناب نے اس میں بڑا تنزل اختیار کیا۔کہ بالکل مولویوں اور منطقیوں کے رنگ میں جلوہ افروز ہوئے اور صوفیوں کے مشرب سے ذرہ جھلک نہ دی سبحان اللہ ! میں نے بار ہاسنا کہ جناب فتوحات مکیہ کے غواص ہیں۔اور کتاب صفحہ ۴۰ تک صرف ایک جگہ شیخ اکبر کا ذکر، وہ بھی لا الہ الا اللہ کی توجیہ نا پسندیدہ پر ایما۔کتاب کو دیکھ کر مجھے اس تحریر کی جرات ہوئی کہ جب جناب تصنیف کا وقت نکال سکتے ہیں تو جواب خط کوئی بڑی بات نہیں۔فاحسن كما احسن الله الیک۔میری مختصر گزارش کا صرف مختصر جواب کافی ہوگا۔اول جناب نے صفحہ میں فرمایا : تفاسیر معتبرہ سے مثل ابن جریر و ابن کثیر - آہ اس پر عرض ہے۔جناب نے تفسیر ابن جریر کو دیکھا ہے یا نہیں۔کہاں سے یہ تفسیر صرف دیکھنے کے لئے مل سکتی ہے؟ مثل ابن جریر سے کم سے کم پانچ تفسیروں کے نام ارشاد ہوں۔کلی طبیعی جناب کے نزدیک موجود فی الخارج ہے یا نہیں ؟ اور تشخص متشخص عین ہے یا غیر۔تجد وامثال کا مسئلہ جناب کے نزدیک صحیح ہے یا غلط؟ زید و عمر و یا نورالدین راقم خاکسار غرض یہ جزئیات انسانیه صرف اسی محسوس مبصر جسم عصری خاکی مائی کا محدود نام ہے یا وہ کوئی اور چیز ہے جس کے لئے یہ موجودة الآن جسم بطور لباس کے ہے یا اسی معنی پر۔انبیاء ورسل صلوات الله علیهم وسلامه ائمه وعترة - اولیاء کرام - صحابہ عظام - انواع و اقسام ذنوب و خطایا سے محفوظ و معصوم نہیں یا ہیں ؟ بصورت اولی ان پر اعتماد کا معیار کیا ہوگا اور بصورت ثانیہ کوئی قوی دلیل مطلوب ہے مگر ہو مختصر کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ ہے۔