حیاتِ نور — Page 257
۲۵۷ المعلن نورالدین بھیروی از قادیان۵۷ حضرت مولوی صاحب کے اس اشتہار سے ظاہر ہے کہ آپ کس طرح جماعت کے مختلف طبقات، نو مسلموں ، مؤلفتہ القلوب، طالب علموں، مسافروں، یتیموں اور جماعت کے واعظوں کی ضروریات کو پورا کر کے حضرت اقدس کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے تھے۔پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی سے خط و کتابت جناب پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی ابتداء حضرت اقدس سے ایک گونہ مخلصانہ تعلق رکھتے تھے اور بر ملاطور پر حضور کی نسبت اچھے خیالات کا اظہار کیا کرتے تھے۔لیکن کچھ عرصہ بعد وہ بھی مخالفین کے گروہ میں شامل ہو گئے تھے۔چنانچہ انہوں نے ایک کتاب شمس الہدایہ " تالیف کی۔اس کتاب میں چونکہ بعض ایسی کتابوں کے حوالے بھی درج کئے تھے جو اس ملک میں ملتی ہی نہیں تھیں۔اس لئے حضرت مولوی صاحب نے بذریعہ چٹھی جناب پیر صاحب موصوف سے دریافت فرمایا کہ -1 جناب نے تفسیر ابن جریر کو دیکھا ہے یا نہیں؟ جناب کے پاس ہے یا نہیں؟ کہاں سے یہ تغیر صرف دیکھنے کے لئے مل سکتی ہے ؟ اس چٹھی کے جواب میں جناب پیر صاحب نے لکھا کہ کتاب کی تالیف وغیرہ کا کام غازی صاحب کے ذمہ رہا ہے لیکن جب لوگوں نے آپ کو پکڑا۔اور پردہ اُٹھتا نظر آیا تو آپ نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ کتاب خود میں نے ہی لکھی ہے۔چنانچہ ذیل میں ناظرین کے تفنن طبع کے لئے حضرت مولوی صاحب کا خط اور جناب پیر صاحب کا جواب دونوں درج کئے جاتے ہیں۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کا خط " مولانا السيد المكرم المعظم السلام عليكم ورحمته الله اول فتح محمد نام آپ کے مرید سے پھر مولوی غلام محی الدین ساکن دہن۔مولوی محمد علی ساکن روال، حکیم اللہ دین شیخو پورہ ، حکیم شاہنواز کے باعث مجھے جناب سے بہت ہی بڑا حسن ظن ہوا۔اور میں بایں خیال کہ جناب کو اشغال و ارشاد میں فرصت کہاں کہ میرے جیسے آدمیوں کے خطوط کا جواب ملے گا۔ارسال عرائض سے متامل رہا۔جناب کے دو کارڈ مجھے ملے اور ان میں مرزا جی