حیاتِ نور — Page 237
دوسرا خط ـارم سکھا اور دین کا سمجھدار بنا۔۲۳۷ منشی اللہ داد کوالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ پہنچا دیا۔۴۳ نورالدین ۲ مارچ ۹۸ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته دنیا میں مرزا جی ایک طوئی کا درخت ہے اور بحمد اللہ یہ خاکسار نورالدین اس کی ایک شاخ اور میرا پیارا بھی بحمد اللہ اسی شاخ میں پھنسا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ ابھی زمین پر گر انہیں اور خدا کرے کہ نہ گرے۔میرزا جی کا کام ہے صرف قرآن کریم سُنا نا۔اگر اس کے قرآن سے کسی کا دل صاف نہ ہو تو وہ پھر قرآن ہی سُنائے گا۔یہانتک کہ وہ خود قرآن کا اثر پا جادے۔”میرے پیارے! تو یاد کر اپنے لڑکپن اور بچپن کو۔کیا تیرا سچا اور مخلص دوست بد عقیدہ، بد چلن ، نافہم یا کمزور ہے؟ کیا تو نے کوئی بد نمونہ اس میں پایا۔کہ تو اس سے الگ رہنا چاہتا ہے۔یادرکھ میری دعائیں تیرے حق میں، تیرے خاندان کے حق میں ، تیری بہنوں میں کیسی مؤثر ہوئیں۔مجھے پر بڑا ہی سخت افسوس گز را ہے کہ تجھے مرزا جی کے متعلق ابتک تو ہمات ہیں۔معلوم ہوتا ہے تو نے اپنے دوست اور دلی دوست نورالدین کو بھی نہیں پہچانا۔کیا تیرے لئے یہ کافی نہ تھا کہ نورالدین میرزاجی کا مرید ہے اور بس۔اصل یہ ہے کہ تو دنیا پرست ہے اور اپنی نانہی کا گرفتار۔خبر دار ہو جا اور یہاں چلا آ۔کہاں تیری عقل اور میرزاجی پر تو ہمات ، توبہ کرلے۔اور بوایسی ڈاک قادیان پہنچ جا۔والا میں تو افسوس کرونگا۔مگر تجھے افسوس کے ساتھ ملامت اُٹھانی پڑے گی۔نوج نورالدین ۳۱ مارچ ۱۹۰۰ء