حیاتِ نور — Page 235
۲۳۵ ـور لئے اس کالج کو دیا کرتے تھے۔افسوس کہ یہ کالج صرف دو سال ہی جاری رہا یعنی صرف ایک ہی کلاس نے تعلیم پائی۔بعد ازاں لارڈ کرزن کے قائم کر دہ یونیورٹی کمیشن کی ہدایات کے بعد اسے بند کر نا پڑا۔کیونکہ کمیشن مذکور نے ایسی کڑی شرطیں لگا دیں تھیں جن کی پابندی ممکن نہ تھی۔اور گو اس وقت تو کالج بند ہو گی مگر الحمد للہ کہ چالیس سال کے بعد پھر کھل گیا اور پہلے قادیان میں اور اب ربوہ میں کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔آپ کے دو خطوط اب ہم حضرت مولوی صاحب کے دو خطوط یہاں درج کرتے ہیں جو آپ نے اپنے ایک دیرینہ دوست حاجی الہ دین صاحب عرائض نویس صدر شاہ پور کو لکھے تھے۔ان خطوط میں آپ نے حاجی صاحب موصوف کے اخلاص میں کمی دیکھ کر انہیں ناصحانہ انداز میں مناسب تنبیہ فرمائی ہے۔اگر چہ پہلا خط ۱۸۹۸ء کا ہے اور دوسرا منشاء کا۔لیکن ایک ہی شخص مخاطب ہونے کی وجہ سے دونوں کو ایک ہی جگہ درج کیا جاتا ہے: تم مجھے بے ریب عزیز تھے اور ہو۔میں نے تم سے محبت کی اور بہت کی۔میں نے تمہارے لئے دعائیں کیں اور اکثر قبول ہوئیں۔الحمد للہ۔اور انشاء اللہ یقین ہے کہ قیامت میں بھی ان کی قبولیت ظاہر ہوگی۔" میری محبت ایسے وقت سے شروع ہوئی جب مجھ میں شعور اور تمیز کا مادہ نہ تھا اور وہ میرے علم اور شعور کے ساتھ بڑھتی رہی۔میرا تمہارا بچپن تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کا محض فضل اور اس کی خاص رحمت تھی اور تعجب انگیز کرم تھا کہ میرے اور تمہارے درمیان بائیس جوش محبت اور شدت پیار کے بچپن سے کوئی ایسی حرکت واقع نہ ہوئی جس کو تم یا میں یا ہمارے پرانے دوست حقارت کی نگاہ سے دیکھیں تم خوب یا درکھو۔کوئی لفظ ، کوئی حرکت ، کوئی ناشائستہ ارادہ اور نالائق خواہش میری تم پر کبھی بھی ظاہر ہوئی۔یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔جو ابتداء سے میرے شامل حال ہیں۔میں ذکر کروں گا کیونکہ یہ نصیحت کا بیان ہے۔میں نے جب دعا کی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے اور تعجب آتا ہے کہ کس طرح اللہ کریم میرے ساتھ تھا کہ مجھ کو ہمیشہ محفوظ رکھا۔بچپن میں انسان کیا نہیں کر گزرتا۔پھر میں نے ہمیشہ ترقی کی۔یہانتک کہ حضرت امام صادق کی بیعت نصیب ہوئی اور تم میرے