حیاتِ نور — Page 234
۲۳۴ رو اور حضرت مولوی صاحب لے رہے تھے۔حضرت نواب صاحب ایک ہزار روپیہ سالانہ چندہ دیا کرتے تھے اور حضرت مولوی صاحب ایک سو بیس روپے سالانہ۔باقی احباب اس سے کم چندہ دیتے تھے۔یہ دونو صاحبان متعدد طلبہ کو اپنی جیب خاص سے معقول وظائف بھی دیا کرتے تھے۔اور حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں تو طالب علم امداد کے لئے لکھتے ہی رہتے تھے۔مگر آپ نے کبھی بھی کسی کو روپیہ موجود ہوتے ہوئے خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹایا۔کچھ نہ کچھ امداد ضرور فر ما دیا کرتے تھے۔اس لحاظ سے محدود وسائل کے باوجود آپ پر بوجھ زیادہ تھا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مدرسہ دن بدن ترقی کرتا چلا گیا اور آخر ۱۹۰۳ء میں وہ وقت آیا جب کہ ان با ہمت ہستیوں نے مدرسہ ہائی سکول کو کالج تک ترقی دینے کا عزم کر لیا۔چنانچہ فیصلہ ہوا کہ حضرت اقدس کی خدمت میں درخواست کر کے اس کی رسم افتتاح ادا کی جائے۔لیکن حضرت اقدس کی طبیعت چونکہ علیل تھی اس لئے حضرت مولوی صاحب کی صدارت میں جلسہ کی کاروائی شروع ہوئی۔حضرت اقدس نے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی معرفت یہ پیغام بھجوایا کہ میں اس وقت بیمار ہوں حتی کہ چلنے سے بھی معذور ہوں لیکن وہاں حاضر ہونے سے بہت بہتر یہاں کام کر سکتا ہوں کہ ادھر جس وقت جلسہ کا افتتاح شروع ہوگا۔میں بیت الدعا میں جا کر دعا کروں گا۔حضرت اقدس کا یہ پیغام سننے کے بعد پہلے حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے مختصری تقریر فرمائی اور پھر حضرت مولوی صاحب نے قرآن کریم کے فضائل اور اس کی تاثیرات پر ایک ایسی فاضلانہ اور پر اثر تقریر فرمائی کہ سامعین عش عش کر اُٹھے۔آپ کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ دنیا میں جتنے عظیم الشان رُوحانی تغیرات پیدا ہوئے ہیں سب کلام الہی پر عمل کرنے سے پیدا ہوئے اور اس کے ثبوت کے لئے سب سے پہلے آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ عربوں کی ترقی کا ذکر فرمایا۔پھر حضرت یوسف کی رُوحانی تربیت اور ظاہری عروج کا ذکر کیا اور آخر میں حضرت اقدس کی برکات اور کامیابیوں کا تذکرہ فرمایا اور بچوں کو نصیحت فرمائی کہ قال اللہ اور قال الرسول کو اپنا دستور العمل بناؤ پھر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کس قدر ترقیات عطا فرماتا ہے۔آپ کی تقریر کے بعد بعض لوگوں نے نظمیں پڑھیں اور پھر جلسہ دعا پر ختم ہوا۔یہ کالج خدا تعالٰی کے فضل سے بہت عمدہ طریق پر چل نکلا تھا اور جماعت کے چوٹی کے فاضل اس میں بطور پروفیسر کام کرتے تھے۔حضرت مولوی صاحب بھی تھوڑا سا وقت دینیات کی تعلیم دینے کے