حیاتِ نور

by Other Authors

Page 4 of 831

حیاتِ نور — Page 4

اول صاحب مرحوم نے اپنی کسی عزیزہ کی بیماری کا مجلس میں ذکر کیا۔حضرت نے فرمایا۔ہم خود جا کر دیکھتے ہیں۔چنانچہ حضور نے ملک صاحب کے ساتھ جا کر مریضہ کو دیکھا۔بعد فراغت فرمایا کہ حکیم الہ دین صاحب مرحوم کا مکان یہاں سے قریب تھا۔ملک صاحب نے عرض کیا "حضور! حکیم صاحب کے صاحبزادہ حکیم فیروز الدین صاحب میرے دوست ہیں میں ابھی ان کو اطلاع بھجواتا ہوں وہ فورا آجائیں گئے۔فرمایا ملک صاحب ! فیروز الدین آپ کے دوست ہوں سے مگر میرے اُستاد کے بیٹے ہیں۔اس لئے میں اُن کے گھر جا کر ملوں گا“۔اللہ! اللہ ! کیا وقار تھا اساتذہ کا! کہ ایک شخص شاہی طبیب کے مرتبہ پر پہنچ کر اور ایک جلیل القدر جماعت کا امام ہو کر بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اپنے اُستاد کے بیٹے کو اس کی ملاقات کے لئے بلا لیا جائے بلکہ وہ یہی چاہتا ہے کہ خود اس کے مکان پر جا کر اس سے ملاقات کرے۔حکیم فیروز الدین صاحب کا ذکر آ گیا۔اس ضمن میں یہ ذکر بھی خالی از بچسپی نہ ہو گا کہ حکیم صاحب موصوف نے ایک کتاب رموز الاطباء لکھی تھی۔اس کی تالیف کے دوران ؛ و حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے گھر تشریف لے گئے۔اور حضور سے آپ کے کچھ حالات اور چند نسخہ جات وغیرہ کے لئے درخواست کی اور پھر اس کتاب میں معہ حضور کے ایک فوٹو کے شائع کئے۔آپ کے والد ماجد کی علم دوستی کے بعض اور واقعات فرمایا: ایک دفعہ ہمارے والد مکتب میں آ نکلے۔میں سختی کو ہوا میں ہلا ہلا کر سکھا رہا تھا۔انہوں نے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو۔میں نے کہا سختی سکھا رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ بازوؤں کو کیوں گندہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ اس کے ساتھ سختی کو صاف کیا ہے۔انہوں نے فرمایا کہ تختی کو تو صاف کیا مگر جسم کو گندہ کیا۔پھر میں نے وہ گھڑ ! بھی جو کالے پانی سے بھرا ہوا تھا دکھایا کہ یہاں پر سختی دھوئی تھی۔فرمایا کہ آؤ ہم اس کام کو پسند نہیں کرتے ، مجھے ہمراہ لے گئے۔ایک دوکان سے سیالکوٹی کاغذ بہت سے خریدے اور ایک شخص غلام حسین کو دے کر کہا کہ ان کی وصدیاں بنادو۔وصلی کے معنے " فرہنگ آصفیہ میں یہ لکھے ہیں دو یا ہم وصل کئے ہوئے کاغذ کا ورق جس پر خوشنویں قطعہ وغیرہ کی مشق کرتے ہیں۔تاریخ کہتا ہے۔لگ گئی پیٹھ مری ہجر میں یوں بسترے ہیں جس طرح وصلی میں کاغذ سے ہو چسپاں کا غفر