حیاتِ نور

by Other Authors

Page 5 of 831

حیاتِ نور — Page 5

ـور اور مجھے وہاں بٹھا گئے۔میں ان کے گرد ہو گیا اور زور دیا کہ ابھی بنا دو۔انہوں نے ایک کاغذ کے چار چار ٹکڑے کر کے دو دو ٹکڑے جوڑ کر وصلیاں بنا دیں اور گھونٹ کر خوب صاف کر دیں۔کسی قدر جو تیار ہو گئیں۔ان کو لے کر میں گھر چلا آیا۔اور لکھنے لگ گیا۔کسی پر الف لکھا کسی پر بے لکھی۔کسی پر کچھ کسی پر کچھ۔غرض جھٹ پٹ وہ تمام وصلیاں لکھ کر ختم کر دیں۔میرے والد صاحب باہر سے آئے تو بھائی صاحب نے والد صاحب کو کہا آج آپ نے نورالدین کو کیا بتایا ہے؟ کہ یہ کاغذ ضائع کر رہا ہے۔دیکھو کتنے کا غذ اس نے تھوڑی دیر میں خراب کر دیئے ہیں۔انہوں نے فرمایا۔کیا ہرج ہے تم اس کا بہی کھاتہ جُدا کر دو اور وہاں سے خرچ کرتے رہو۔جب بڑا ہوگا تو اپنا قرضہ اتار دیگا۔کے ایسا ہی آپ فرماتے ہیں: ایک دفعہ میں گلستان پڑھ رہا تھا۔میں نے کہا کہ یہ گلستاں تو بہت بدخط ہے۔انہوں نے فرمایا۔چھوڑ دو۔میں کئی دن فارغ رہا۔انہوں نے کشمیر سے نہایت خوشخط گلستاں منگوائی اور میرے حوالہ کی۔ایک دفعہ میں نے اس پر بے احتیاطی سے جو دوات رکھی اور وہ ہوا سے اُلٹ گئی۔تو سیاہی اس پر پھیل گئی۔میں نے کہا میاں صاحب اس پر تو سیاہی گر پڑی۔انہوں نے کمال حوصلگی سے فرمایا کہ کیا حرج ہے اور لے دیں گے۔آپ کے والد ماجد کو بچوں کی تربیت کا خیال اپنے والد کے ذکر پر ایک مرتبہ فرمایا: میرا باپ بڑے حوصلے والا اور امیر آدمی تھی۔ہم ہر قسم کے میوے اپنے کھانے پر دیکھتے تھے اور ہر جگہ کے انار اور سیب و انگور وغیرہ ہم کھانے کے ساتھ کھاتے تھے۔مگر وہ ہم کو کبھی نقد پیسے نہیں دیتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ جو شے تم چا ہو ہم تم کو منگا کر کھلا دیں گے مگر نقد پیسے نہ دیں گے۔ایک دفعہ میں عید میں جا رہا تھا۔میں نے کہا آج تو مجھ کو پیسے دیجئے۔فرمایا کہ جو کچھ کہو گے ہم تم کو منگا دیں گے۔پیسے کیا کرو گے؟ اس وقت انہوں نے مجھے کو آدھ آنہ دیا تھا۔