حیاتِ نور

by Other Authors

Page 3 of 831

حیاتِ نور — Page 3

سم ڈیرہ میں آیا۔اس نے کوئی چیز پڑھتے وقت میرے بھائی سے کہا اسے قرآن شریف پڑھائیے اور مجھے ایک سورة اذا وقعت الواقعة معه ترجمه دی اس زمانہ کا طریقہ تعلیم آپ اس زمانہ کا طریقہ تعلیم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”جب میں اور بڑا ہوا۔اور مدرسہ میں داخل ہوا تو اس وقت کے مدارس میں ایسا گھمسان نہ تھا جیسا کہ اب ہے کہ ایک ہی پیج پر اور ایک ہی کمرہ میں بہت سے مختلفانہ مذاہب کے لوگ جمع ہوں اور اکٹھے سبق پڑھیں اور ایک دوسرے پر اپنا اثر ڈالیں۔بلکہ ہمارے میاں جی ایک خاص رنگ کے آدمی تھے۔وہ دس لڑکوں کو ملا کر سبق نہ پڑھاتے بلکہ ایک ایک لڑکے کو باری باری انگ ، الگ سبق دیتے تھے۔جو زیادہ خدمت کرتا اسے زیادہ اور عمدہ سبق پڑھنے کا موقعہ ملتا اور جو کم خدمت کرتا اسے کم موقعہ ملتا۔یہ بناوٹی بات نہیں ہے بلکہ واقعہ میں اس مرح ہوا۔آپ کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں اُستادوں اور ، گردوں کے درمیان بہت مخلصانہ تعلقات ہوا کرتے تھے۔اور وہی طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے تھے جو استادوں کا ادب اور خدمت کرنے والے ہوتے اور ایسے شاگردوں کی طرف اساتذہ بھی خاص توجہ دیا کرتے تھے۔اُس زمانہ میں بلکہ آج سے پچیس تیس سال پہلے تک ٹیوشن وغیرہ کا کوئی رواج ہی نہ تھا۔اساتذہ کو جو گزارا ماہوار ملا کرتا تھا اسے وہ غنیمت سمجھتے تھے اور فارغ اوقات میں ذہین اور ہوشیار طلبہ کو بہت شوق اور خوشی سے پڑھایا کرتے تھے۔طلبہ بھی اپنے اساتذہ کی دل سے قدر کیا کرتے تھے اور بڑے بڑے عہدوں پر پہنچ کر بھی ان کی تعظیم میں کوئی فرق نہیں آنے دیتے تھے۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کا بیان ہے کہ ” حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جب درس فرماتے تو بعض دفعہ ایک چھوٹا سا لڑکا جب بھی آپ کی طرف آتا۔آپ اس کے ادب اور تعظیم کے لئے اُٹھ کھڑے ہوتے اور حاضرین سے مخاطب ہو کر فرماتے کہ یہ علم جس سے تم لوگ فائدہ اٹھا ر ہے ہو اس بچہ کے والد بزرگوار کا فیض ہے“۔3 حضرت خلیفہ اسیح الاول کا اپنا طریق بھی بعینہ یہی تھا۔محترم ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب فرماتے ہیں: حضرت خلیفۃ ابیح الاول ایک مرتبہ لاہور تشریف لائے۔ملک خدا بخش