حیاتِ نور

by Other Authors

Page 217 of 831

حیاتِ نور — Page 217

☆ کے نام کو اختلاف تھا جس کا آپ بر ملا اظہار فرما دیا کرتے تھے۔بدر میں ایک نواب صاحب" آپ کا ایک خط چھپا تھا جس سے آپ کے ان تعلقات پر کسی قدر روشنی پڑتی ہے۔آپ لکھتے ہیں۔مجھے خاکسار کی ( سر ) سید سے خط و کتابت رہی ہے۔میں نے ان کو ایک بار کسی تقریب پر عرض کیا تھا۔جاہل علم پڑھ کر عالم بننا ہے اور عالم ترقی کر کے حکیم ہو جاتا ہے۔حکیم ترقی کرتے کرتے صوفی بن جاتا ہے مگر جب صوفی ترقی کرتا ہے تو کیا بنتا ہے؟ قابل غور ہے۔جس کے جواب میں سرسید نے لکھا کہ وہ نورالدین بنتا ہے۔۔مجھے آپ نے دولاکھ کے جمع کرنے کی ترغیب فرمائی ہے۔آپ نواب، رئیس اعظم ، ہونہار نوجوان، لاکھوں جمع کرنے والوں کے فدائی۔ذرا مجھ غریب کی سنیئے۔قرآن کریم فرماتا ہے گذلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا۔اور فرماتا ہے۔وَمَا نَرْنكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمُ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأي - ٣٨ اور فرماتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں لَوْ لَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم وفضل بخشا ہے اور مال کو اللہ تعالیٰ خیر و فضل فرمایا ہے اور رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ ابوالحتفاء نے دعا سکھائی ہے اور ہم مانگتے ہیں۔گو سرسید دعا کا نتیجہ حصول مراد نہیں مانتے تھے مگر میں برخلاف ان کے دعا کو سبب حصول مرادات مانتا ہوں۔ایک پیسہ جمع کرنا بھی نا پسند کرتا ہوں اور یہ واقعہ ہے کہ پھر بائیں آپ کے سرسید بھی میری عزت کرتے تھے اور بہت کرتے تھے محسن الملک اسے اور ان کے بازو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔حضور کسی امام و مصنف کا نام اسلام میں بتا سکتے ہیں جس نے ان روپوں کے ذریعہ اسلام کو دنیا میں پھیلایا۔لائیبریری کا عالیجاہا آپ کو شوق ہے مگر ہندوستان میں صرف میری لائبریری ہید نواب صاحب کے نام کا چونکہ یہ نہیں چل سکا اس لئے نقل مطابق اصل پر اکتفا کی گئی ہے۔بعض لوگوں کے نزدیک یہ نواب "وقار الملک تھے۔مگر یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی۔کیونکہ نواب وقار الملک ۱۸۳۷ ء میں پیدا ہوئے۔اور 19ء میں نواب محسن الملک کے انتقال پر علی گڑھ کالج کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔اور یہ مکتوب ۱۹۰۹ء کا ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ نواب صاحب موصوف اس زمانہ میں بوڑھے تھے۔اور یہاں لکھا ہے۔” ہو نہار تو جوان " ( دیکھیئے قاموس المشاھیر جلد ۲ )