حیاتِ نور

by Other Authors

Page 216 of 831

حیاتِ نور — Page 216

ـور اور اعتقادات پر جزا دیتی ہے اسے ملک الناس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔اور وہ ذات جو انسان کی اصل غرض اور محبوب اور مقصود ہے۔اسے الله الناس کہا گیا ہے۔اب غور فرمائیں۔جب اس سورۃ میں انسان کی حالتوں کی طرف اشارہ کر کے اللہ کریم نے فرمایا کہ رب بھی میں ہوں اور بادشاہ بھی میں ہوں اور محبوب و مطلوب بھی میں ہوں اور غایہ مقصود بھی میں ہوں تو میرے بندو! مجھے کامل پاک ذات سے پناہ مانگ لو اور کہد و! ہاں ہر ایک انسان تم میں سے کہے کہ میں ربوبیت میں ، ضرورت حکومت میں اور ضرورت محبت میں رَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ اور اِلهِ النَّاسِ کی پناہ مانگتا ہوں اور پناہ بھی کسی امر میں مِن شَرِ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ، مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ - صاحبان ! آپ لوگوں نے اس جلسہ میں کئی مضامین سنے۔لازمی امر ہے کہ بعض باتیں صداقت اور راستبازی پر مشتمل ہوں اور بعض کذب و افتراء اور دھو کے سے پُر ہوں گی۔اس لئے قرآن کریم کی اس دعا کے ماتحت تمہیں ان تمام غلطیوں اور وسوسوں سے جو کسی وسوسہ انداز کے نظارہ یا کلام سے پیدا ہوں۔رب الناس، ملک الناس اور الہ الناس سے پناہ مانگنی چاہئے۔کیونکہ ان وسوسوں کی مثال ہو بہو اس تکلیف رساں کتے کی سی ہے۔جو آٹھوں پہر کاٹنے کے لئے تیار ہے۔جس طرح اس کتے سے بچنے سے کے لئے ہم کو اس کے مالک کی پناہ مانگنی پڑتی ) ہے۔اور اگر اس کا مالک ہمیں بچانا چاہے اور اس کتے کو دھتکار دے۔تو کیا مجال کہ وہ کتا کسی کو کاٹ کھائے۔اسی طرح انسان کا شیطانی وسوسوں سے بچنا بھی اس وجود کی پناہ سے ہوگا۔جو کل مخلوقات کا رب اور مالک اور محبوب ہے۔سرسید مرحوم بانی مدرسہ علیگڑھ کے ساتھ آپ کے تعلقات حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرسید مرحوم بانی مدرسہ علیگڑھ کی قومی خدمات کے معترف تھے اور اس سلسلہ میں ہمیشہ ان کی امداد فرماتے رہتے تھے مگر ان کے مذہبی معتقدات سے آپ