حیاتِ نور — Page 218
۲۱۸ ہے جس سے سرسید احمد خاں اور مولا ناشبلی نے بحمد اللہ ضرور فائدہ اٹھایا ہوگا یا ہے۔ایک تو دنیا سے چل بسے، دوسرے موجود ہیں۔آپ ان سے دریافت فرما سکتے ہیں۔آہ ! آپ کو کون بتائے کہ پراگندہ روزی پراگندہ دل اور شب چو عقدے نماز می بندم و چه خورد با مداد فرزندم بالعموم صحیح نہیں۔نورالدین ۲۲ / مارچ ۱۹۰۹ء۔سرسید مرحوم کو دعوت چائے اوائل ۱۸۹۷ء ۲۲ نواب صاحب کے نام خط میں جو بات حضرت خلیفتہ اسح الاول نے اپنے متعلق سرسید مرحوم کی طرف منسوب کی ہے اس کا ذکر مشہور سوانح نگار حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے اپنے اخبار الحکم میں کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: ار کی پہلی سہ ماہی کا واقعہ ہے حضرت حکیم الامت خلیلہ اسے الاول) نے شیخ محمد عبداللہ صاحب کو اپنی طرف سے سرسید کو چائے پلانے کے لئے فرمایا۔شیخ محمد عبد اللہ صاحب کشمیر کے باشندہ تھے اور حضرت حکیم الامیہ کی تبلیغ و تعلیم سے وہ مسلمان ہوئے تھے۔آپ کو شیخ صاحب سے بہت محبت تھی اور ان کی تعلیمی ترقیات و تربیت میں آپ کا ہاتھ کام کرتا رہا۔شیخ صاحب قادیان بھی آیا کرتے تھے۔اب وہ علی گڑھ کالج کے ٹرسٹی اور وہاں کے ایک کامیاب اور با اثر وکیل ہیں۔علی گڑھ کا زنانہ کالج ان کی اور ان کی بیگم صاحبہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔(انہوں نے ) اپنے اور ان کے (یعنی سرسید مرحوم کے ) مذاق کے موافق نہایت عمدگی سے (چائے کا انتظام کیا تھا۔اس تقریب پر حضرت حکیم الامہ نے ( سرسید احمد خاں سے ) بعض استفسارات بھی کئے تھے۔جن میں سے ایک کا آپ ہمیشہ اپنے درس میں مناسب موقعہ پر کبھی کبھی ذکر فرمایا کرتے تھے۔کہ میں نے سرسید سے پوچھا کہ جب صوفی ترقی کرتا ہے تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ تو سرسید نے جواب دیا کہ وہ نورالدین بن جاتا ہے۔احباب کو یہ معلوم نہ تھا اور نہ ہے وہ کیا تقریب تھی۔جب آپ نے سوال کیا تھا اور جواب کس طرح ملا تھا۔وہ یہی تقریب تھی کہ آپ نے شیخ عبد اللہ صاحب کی