حیاتِ نور

by Other Authors

Page 2 of 831

حیاتِ نور — Page 2

2 * اول آپ کی پیدائش اور دُودھ چھڑانے کا واقعہ ۱۲۵۸ھ مطابق ۱۸۴۱ء آپ ۱۲۵۸ یا ۱۸۲۱ء یا ۸۹۸ اسم کے قریب بھیرہ ضلع شاہ پور میں پیدا ہوئے۔آپ اپنے سات بھائیوں اور دو بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے اور اس بارے میں آپ کو اپنے آقا و مطاع حضرت میرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ایک گونہ مشابہت تھی۔کیونکہ حضرت مرزا صاحب بھی اپنے والدین کے ہاں آخری اولاد تھے۔آپ کا حافظہ نہایت غضب کا تھا۔فرمایا کرتے تھے کہ مجھے وہ زمانہ بھی یاد ہے جبکہ میری والدہ نے میرا دودھ چھڑانے کے لئے پستان پر کوئی کالی دوالگا کر مجھے ڈرایا تھا اور میں نے اپنے بھائی سے کہا تھا کہ ہوا ہے اسے مٹادو۔دودھ چھڑانے کے بعد میری بھاوج نے اکثر مجھ کو اپنے پاس رکھا۔وہ مجھ کو کھلاتے اور بہلاتے ہوئے اکثر یہ کہا کرتی تھیں کہ انت الهادى انت الحق ليس الھادی الا ھو کے والد ماجد کی علم دوستی آپ کے والد ماجد حضرت حافظ غلام رسول صاحب کی علم دوستی پر ایک واقعہ خوب روشنی ڈالتا ہے۔جس کا ذکر آپ یوں فرماتے ہیں کہ میرے باپ کو اپنی اولاد کی تعلیم کا بہت شوق تھا۔مدن چند ایک ہندو عالم تھادہ کوڑھی ہو گیا۔لوگوں نے اُسے باہر مکان بنا دیا۔میرے باپ نے اس کے پاس میرے بھائی کو پڑھنے کے لئے بھیجا۔لوگوں نے کہا۔خوبصورت بچہ ہے کیوں اس کی زندگی کو ہلاکت میں ڈالتے ہو۔اس پر میرے باپ نے کہا مدن چند جتنا علم پڑھ کر اگر میرا بیٹا کوڑھی ہو گیا تو کچھ پروا نہیں“۔تم بھی اپنے بچوں کے لئے ایسے باپ بنوں۔میرا باپ ایسا بلند ہمت تھا کہ اگر وہ اس زمانہ میں ہوتا تو مجھے امریکہ بھیج دیتا “ کے آپ کے پڑھنے کی ابتداء آپ فرماتے ہیں: ” جب میں پڑھنے لگا تو مجھے خوب یاد ہے کہ یاغستان سے ایک تاجر ہمارے ۱۲۵۸ ۱۲ فروری ۱۸۳۲ء کو شروع ہوا اور ۳۱ جنوری ۱۸۳۳ء کو ختم ہوا۔اس لئے حضور کا سن پیدائش ۱۸۳۱ء کی بجائے ۱۸۳۲ء سمجھنا چاہئے۔( التوفيقات الالہامیہ )