حیاتِ نور

by Other Authors

Page 205 of 831

حیاتِ نور — Page 205

۲۰۵ حضرت خواجہ صاحب ابقاء اللہ تعالیٰ بقائہ نے فرمایا کہ یہ مولوی نورالدین وہ بلا ہے جسے ہندوستان میں علامہ کہتے ہیں۔جلسہ سالانہ ۱۸۹۴ء میں آپ کی تقاریر اگر چه ۱۸۹۳ء کا جلسہ سالانہ حضرت اقدس نے بعض وجوہ کی بناء پر نہ کرنے کا اعلان فرما دیا تھا۔لیکن ۱۸۹۴ء کا جلسہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنی مقررہ تاریخوں میں ہوا۔اور اس میں حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب نے بھی اپنے خطبات اور روحانیت سے لبریز ملفوظات سے حاضرین کی ضیافت کی۔کتاب من الرحمن کی تالیف میں آپ کا حصہ ۱۸۹۵ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئی ایک مثالی اور عظیم الشان اکتشافات کا اعلان فرمایا۔چنانچہ سب سے پہلے آپ نے اس امر کا اعلان فرمایا که زبان عربی ام الالسنه ہے اور اس سلسلہ میں آپ نے ایک کتاب من الرحمن" نام تصنیف فرمائی۔اس تالیف میں جن لوگوں نے سب سے زیادہ محنت اور عرقریزی سے کام کیا۔ان میں سر فہرست حضرت اقدس نے حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کے اسماء درج فرمائے ہیں۔آپ نے نہ صرف قیمتی معلومات مہیا کیں بلکہ اس کام کے لئے انگریزی لٹریچر بھی خرید کر پیش کیا۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء ڈیرہ بابا نانک کا سفر ۱۸۸۷ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک کشف میں حضرت بابا نانک رحمتہ اللہ علیہ کو ایک مسلمان کی شکل میں دیکھا تھا اور آپ کو بتلایا گیا تھا کہ جس چشمہ صافی سے آپ نے پانی پیا ہے اس سے حضرت بابا صاحب نے پیا تھا۔اس وقت گو حضور نے متعدد احباب کو اس کشف سے مطلع فرمایا لیکن اس کی عام اشاعت نہیں کی تھی اور اس تلاش میں تھے کہ کوئی ایسا ثبوت ملے جس سے حضرت بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ کے اسلام پر واضح شہادت مل جائے۔چنانچہ اس کشف کے ایک عرصہ بعد ۱۸۹۵ ء میں جب حضور کو معلوم ہوا کہ قصبہ ڈیرہ بابا تا تک ضلع گورداسپور میں حضرت بابا تانک کا ایک چولہ محفوظ ہے جس سے سکھ قوم بہت عقیدت رکھتی ہے اور بڑے بڑے قیمتی رومالوں میں اسے