حیاتِ نور — Page 206
: لپیٹ کر رکھا ہے تو حضور نے پہلے ایک پارٹی اس امر کی تحقیقات کے لئے بھیجی کہ وہ وہاں جا کر اپنی آنکھوں سے اس چولہ کو دیکھے اور پھر یہاں آکر رپورٹ کرے۔چنانچہ جب یہ معلوم ہوا کہ اس چولہ پر کلمہ طیبہ اور متعدد قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں۔تو اس خیال سے کہ ممکن ہے بعد کے لوگ اس وفد کی شہادت کو اتنا نون نہ دیں جتنے کی وہ مستحق ہے۔حضور خود ایک پارٹی کے ساتھ ۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء کو خود روانہ ہوئے۔اس پارٹی میں دس خدام شامل تھے۔جن میں سب سے پہلے نمبر پر حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب کا نام نامی درج ہے۔جب ڈیرہ بابا نا تک جا کر اس چولہ کو دیکھا تو پتہ لگا کہ واقعی وہ چولہ ایک مسلمان بزرگ ہی کی یاد گار ہو سکتا ہے کیونکہ اس پر جہاں کلمہ طیبہ لا الہ الاللہ محمد رسول اللہ لکھا ہے۔وہاں ان الدین عند الله الاسلام اور کلمہ شہادت اشهد ان لا الہ الا الله واشهد ان محمد اعبده و رسولہ بھی لکھا ہے۔سورۃ فاتحہ اور سورۃ اخلاص سے بھی وہ چولہ مزین تھا۔چنانچہ حضور نے اس چولہ کی ساری عبارت محفوظ کر والی اور قادیان واپس پہنچ کر ایک کتاب ”ست بچن لکھی جس میں علاوہ اس سفر کی روئداد کے سکھوں کی مذہبی کتاب گورو گرنتھ صاحب اور جنم ساکھیوں سے بھی ایسے شہد اور تحریریں پیش فرما ئیں جن سے حضرت باوانا تک رحمتہ اللہ علیہ کے مسلمان ہونے کے واضح ثبوت ملتے ہیں۔اس کتاب میں چولہ باوا نا تک کی تصویر بنا کر اس پر وہ تمام عربی عبارتیں درج ہیں جو اصل چولہ پر درج حضرت مولوی صاحب مالیر کوٹلہ میں ۱۸۹۶ء ۱۸۹۶ء میں حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ میں قرآن مجید پڑھنا چاہتا ہوں۔از راہ نوازش حضرت مولوی نورالدین صاحب کو کچھ عرصہ کے لئے میرے پاس مالیر کوٹلہ بھیج دیں۔حضرت اقدس کے ارشاد پر آپ وہاں تشریف لے گئے اور چند ماہ وہاں قیام فرمایا۔آپ کے ہمراہ آپ کے اہل بیت بھی تھے۔شروع شروع میں آپ کا قیام شہر میں رہا۔پھر آپ کے قیام کے لئے شیروانی کوٹ میں انتظام کر دیا گیا۔ایک گھوڑا گاڑی بھی آپ کی ضرورت کے لئے ہر وقت موجود رہتی تھی۔حضرت نواب صاحب آپ سے قرآن مجید پڑھنے کے لئے روزانہ شیروانی کوٹ جاتے تھے اور دو پہر کا کھانا بھی آپ کی معیت میں تناول فرمایا کرتے تھے۔مکرم میاں عبد الرحمن خاں صاحب ابن حضرت نواب صاحب فرماتے ہیں کہ قریباً نصف سال میں حضرت والد صاحب (یعنی نواب صاحب) نے قرآن مجید ختم کر لیا۔