حیاتِ نور

by Other Authors

Page 204 of 831

حیاتِ نور — Page 204

ـسـور ۲۰۴ حکایت پیش مولوی نورالدین که مرید مرزا صاحب است بیان کردہ شدہ۔وے گفت که اعتقاد ما مردم در حق مرزا صاحب بدین گونه نیست که به سبب نه مردن آتھم پادری در آن سال که مرزا صاحب وعده کرده بود، تزلزل پذیر و از گشته شود۔زیرا که این خلاف وعده با از پیغمبران نیز واقعه شده است به سبب مصلحت که عند الله است - چنانکه وقوعه حدیبیه که حضرت محمد مصطفے احمد مجھے رسول خدا صلے الله علیه وسلم به اصحاب خود فرموده بودند که امسال طواف بیت اللہ خواہم کر دو حج خواهم گزارد و فتح مکه نیز خواهم نمود و حالانکہ ہر سهام میسر نشدند - بیچناں از حدیبیه بکفار مکہ صلح کرده باز گردد یدند بعد ازاں حضور خوابه البقاء اللہ تعالٰی بقائم فرمودند که این مولوی بلائیست که در هندوستان اور اعلامه می گویند ۱۸ ترجمہ: اس کے بعد خواجہ صاحب نے فرمایا کہ مرزا صاحب نے عبد اللہ آتھم پادری کی موت کے متعلق پیشگوئی کی تھی کہ وہ ایک سال کے عرصہ کے اندر مر جائے گا۔لیکن واقعہ اس کے خلاف وقوع میں آیا یعنی پادری آتھم اس موعود سال کے گزر جانے پر دوسرے سال مرا۔اس کے بعد حضرت خواجہ صاحب نے فرمایا کہ جب یہ بات مولوی نورالدین صاحب ( جو حضرت مرزا صاحب کے مرید ہیں) کے سامنے بیان ہوئی۔تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگوں کا اعتقاد حضرت مرزا صاحب کے حق میں اس قسم کا نہیں ہے کہ آتھم پادری کے موعود سال کے اندر نہ مرنے سے متزلزل ہو کر ختم ہو جائے کیونکہ اسی قسم کے واقعات اللہ تعالیٰ کی بعض مصلحتوں کے باعث سابقہ انبیاء کرام کے وقت بھی پیش آتے رہے ہیں۔چنانچہ واقعہ حدیبیہ سے قبل حضرت محمد مصطفی احمد مجتبے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا تھا کہ ہم اس سال بیت اللہ شریف کا طواف کریں گے اور حج کریں گے اور مکہ میں داخل ہوں گے حالانکہ ان تینوں باتوں میں سے کوئی بات بھی اس سال وقوع میں نہ آئی اور حضور علیہ السلام کفار کے ساتھ صلح کر کے مقام حدیبیہ سے واپس تشریف لے آئے۔اس کے بعد