حیاتِ نور

by Other Authors

Page 203 of 831

حیاتِ نور — Page 203

2۔ارم کی اور کرامات دیکھ کر نہیں ہوا۔بلکہ یہ تین امر د یکھ کر ہوا ہوں۔اول یہ کہ حضرت مرزا صاحب نے ظاہری علم صرف و نحو کا شرح ملا جامی تک پڑھا ہے اور وہ بھی انگریزوں کی ملازمت کے وقت دوسرے علماء کی مانند بھلا دیا تھا اور اب ایسے قبیحر اور یگانہ روزگار عالم ہیں کہ قصائد عربی اور فارسی اور اردو کمال فصاحت اور بلاغت کے ساتھ چالیس چالیس شعر یکدفعه بلا تامل لکھتے چلے جاتے ہیں اور قرآن شریف کے معانی کے رموز جو کچھ ہم لوگوں کو معلوم ہیں وہ عموماً صوفیا کی کتابوں ہی سے ہیں خصوصا فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی سے۔مگر قرآن شریف کے وہ اسرار اور معانی جو ہم نے حضرت مرزا صاحب سے سنے ہیں نہ پہلے کسی کتاب میں دیکھے ہیں اور نہ سوائے حضرت مرزا صاحب کے کسی اور شخص سے سُنے ہیں۔دوم یہ کہ ہم نے حضرت مرزا صاحب کو رات دن اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف و مشغول دیکھا ہے۔سوم یہ کہ دین اسلام کی اشاعت میں ایسے کمر بستہ ہیں کہ بیخوف و ہراس تمام ملکوں اور شہروں کے ملوک وسلاطین کو دعوت اسلام دی ہے جیسا کہ ملکہ زمان بادشاہ لندن کو صلیب کی شوکت اور کفارہ اور تثلیث کے عقیدہ کو توڑنے کی غرض سے دین اسلام کی دعوت دی ہے اور بادشاہ جرمن اور فرانس اور روس کو بھی دعوت دی ہے کہ اپنے جھوٹے عقیدوں کو چھوڑ کر اسلام قبول کریں اور روم کے بادشاہ اور کابل کے بادشاہ امیر عبدالرحمن وغیرہ سب کو دعوت دی ہے۔کہ حمایت اسلام کریں اور کبھی ان کے دل میں کوئی خوف و ہراس راہ نہیں پاتی۔اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی درباره پادری عبد اللہ آتھم کے متعلق حضرت خواجہ صاحب فرماتے ہیں: بعد ازاں فرمودند که مرزا صاحب نسبت موت آتھم پادری پیشگوئی کرده بود که دے اندر عرصه یک سال خواهد مرد به قضاء خلاف آن بوقوع آمد یعنی آتھم پادری بقضائے آں سال موعود در دیگر سال بمرد۔بعد ازاں فرمودند کہ چوں ایں