حیاتِ نور — Page 165
۱۶۵ بیان فرمائے۔جن سے حاضرین پر بڑا اچھا اثر پڑا۔اور مولوی صاحب نے بڑی صفائی سے اس بات کا ثبوت دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام در حقیقت اس عالم سے رحلت فرما گئے ہیں اور ان کے زندہ ہونے کا خیال عبث اور باطل اور سراسر مخالف نصوص ہینہ قرآن کریم و احادیث صحیحہ ہے اور ان کے نزول کی امید رکھنا طمع خام ہے۔۔۔۔الخ، ۵۶ آپ کی صدارت میں ایک کمیٹی کا قیام اس جلسہ کے آخری روز یعنی ۲۸ / دسمبر ۱۸۹۲ء کو احباب کے مشورہ سے یہ قرار پایا کہ یورپ و امریکہ میں تبلیغ کے لئے انگریزی میں ایک رسالہ تیار کیا جائے جو اہم ضروریات اسلام کا جامع اور عقائد اسلام کا خوبصورت چہرہ معقولی طور پر دکھاتا ہو نیز ایک پریس بھی جاری کیا جائے جس سے سلسلہ کا لٹریچر بآسانی طبع کیا جاسکے۔ایک اخبار کی اشاعت کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ایسا ہی بعض اور تجویز میں بھی پیش ہوئیں اور ان اغراض کے پورا کرنے اور دیگر انتظامات کی غرض سے ایک کمیٹی تجویز کی گئی جس کے صدر حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب بھیروی اور ممبران حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی، حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رکھیں مالیر کوٹلہ ، جناب شیخ رحمت اللہ صاحب میونسپل کمشنر گجرات اور جناب منشی غلام قادر صاحب فصیح وائس پریذیڈنٹ میونسپل کمیٹی سیالکوٹ قرار پائے۔24 جنگ مقدس کے بعد امرتسر میں آپ کی تقاریر امرتسر میں عیسائیوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پندرہ روز لگا تار جوتحریری مناظرہ ہوا تھا اور جو جنگ مقدس“ کے نام سے طبع ہو کر شائع ہوا۔اس میں علاوہ اور احباب کے حضرت مولوی صاحب بھی برابر حضور کے ساتھ امرتسر میں موجود رہے۔شہر کے رؤساء خصوصا حاجی میر محمود صاحب اور جناب خواجہ یوسف شاہ صاحب حضرت مولوی صاحب کے ساتھ نہایت ہی محبت اور اخلاص سے پیش آتے تھے اور وہ دونوں صاحب یہ چاہتے تھے کہ علماء کے گروہ نے جو غلط فہمیاں حضرت مرزا صاحب کے عقائد کے متعلق عوام الناس میں پھیلا رکھی ہیں۔ان کا ازالہ کیا جائے۔اور اس غرض کے لئے انہوں نے گروہ علماء کو بالمقابل گفتگو کرنے کے لئے دعوت بھی دی لیکن افسوس کہ مولوی صاحبان نے اُن کی تجویز کردہ شرائط کے مطابق بحث کرنا منظور نہ کیا۔اس پر انہوں نے بڑے بڑے مجمعوں میں حضرت مولوی صاحب کے متعدد وعظ اور لیکچر کرائے۔جن سے آپ کے تبحر علمی اور