حیاتِ نور — Page 164
۱۶۴ ہے۔میں نے بہت غور مرزا صاحب کے دعاوی پر کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں۔آپ کی خدمات اسلامی کو دیکھا اور آپ کی مخالفت کرنے والوں کے حالات پر غور کیا تو قرآن مجید نے میری رہنمائی فرمائی۔میں نے دیکھا کہ آپ سے پہلے آنے والوں کا مقابلہ جس طرح پر کیا گیا وہی اب ہو رہا ہے۔گویا اس پرانی تاریخ کو دوہرایا جا رہا ہے۔میں کلمہ شہادت پڑھ کر کہتا ہوں کہ مرزا حق پر ہے اور اس حق سے ٹکرانے والا باطل پاش پاش ہو جائے گا۔مومن حق کو قبول کرتا ہے۔میں نے حق کو سمجھ کر اسے قبول کیا ہے اور اب حضرت نبی کریم کے ارشاد کے موافق کہ مومن جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرتا ہے۔آپ کو بھی اس حق کی دعوت دیتا ہوں۔وما علینا الا لبلاغ اسلام علیکم۔یہ فرما کر میز سے اتر آئے اور جلسہ برخواست ہو گیا۔۵۵ جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شمولیت ۱۸۹۱ء میں حضرت اقدس نے آسمانی فیصلہ سُنانے کے لئے احباب کو مرکز میں بلایا تھا۔جہانتک ریکارڈ کا تعلق ہے اس جلسہ میں حضرت مولوی صاحب کی تشریف آوری کا ذکر نہیں ملتا۔البتہ جو جلسہ ۱۸۹۲ء میں ہوا۔اس میں آپ تشریف لائے۔اور جیسا کہ حضرت اقدس کے اعلان مورخہ ۷ اردسمبر ۱۸۹۲ء سے ثابت ہے۔آپ نے اس مقدس اجتماع کے لئے حضرت حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کی مدد سے قادیان میں ایک مکان بھی بنوایا تھا۔جس پر سات سو یا اس سے کچھ زیادہ روپے خرچ ہوئے تھے۔چنانچہ قادیان میں مستقل طور پر ہجرت کے بعد آپ نے اس مکان میں رہائش اختیار کی۔اس جلسہ کی رپورٹ جو آئینہ کمالات اسلام میں شائع ہوئی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب نے قرآن شریف کی ان آیات کی تغییر بیان کی جس میں یہ ذکر ہے کہ مریم صدیقہ کیسی صالحہ اور عفیفہ تھیں اور ان کے برگزیدہ فرزند حضرت عیسی علیہ السلام پر خدا تعالٰی نے کیا کیا احسان کیا اور کیونکر وہ اس فانی دنیا سے انتقال کر کے اس دار النعیم میں پہنچ گئے جس میں ان سے پہلے حضرت یخنی حضور اور دوسرے مقدس نبی پہنچ چکے تھے۔اس تقریر کے ضمن میں مولوی صاحب موصوف نے بہت سے حقائق و معارف قرآن کریم