حیاتِ نور — Page 166
نکات قرآنی کے بیان کرنے میں وسعت معلومات اور قابلیت کا سکہ بیٹھ گیا۔خصوصاً آخری دو راتوں میں موجبات تکفیر کی بیخ کنی پر جو آپ نے روشنی ڈالی تو ہر کہ دمہ کی نظر میں حضرت اقدس مرزا صاحب کا وجود قابل ادب اور لائق تکریم شمار ہونے لگا۔یہ ہر دو وعظ خاص اپنے اہتمام سے حاجی میر محمود صاحب نے اپنے طویلے کے کوٹھے کی چھتوں پر کرائے۔علاوہ ان دو وعظوں کے شہر کی مختلف مساجد اور عام پبلک جلسوں میں بھی حضرت مولوی صاحب کی تقاریر ہوئیں۔ان تقاریر اور وعظوں کی وجہ سے آپ کی جو عزت اور تکریم باشندگان شہر کے دلوں میں قائم ہوئی اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب حضرت مولوی صاحب وعظ سے فارغ ہوتے تھے تو عام لوگ مصافحہ اور دست بوسی کے واسطے ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔سفر جنڈیالہ چونکہ ساکنین جنڈیالہ ہی اس بحث کے محرک ہوئے تھے اس لئے انہوں نے حضرت اقدس سے اس امر کی شدید خواہش کی کہ حضور ایک دن کے لئے جنڈیالہ تشریف لے چلیں۔حضور نے ایک دن کے لئے جنڈیالہ جانا منظور فرما لیا اور جب حسب وعدہ جنڈیالہ پہنچے تو اہل جنڈیالہ نے حضور کا شایان شان استقبال کیا اور جہاں حضور کے ارشادات عالیہ سے مستفیض ہوئے وہاں حضرت مولوی نورالدین صاحب کے مواعظ حسنہ کو بھی دلی شوق اور انبساط سے سُنا۔بعد نماز عصر جب حضور واپس امرتسر جانے لگے تو اہل دیہہ نے درخواست کی کہ حضور ! حضرت مولوی صاحب کو اجازت دیں کہ رات یہاں رہ کر وعظ فرمائیں۔حضور نے اس امر کو منظور فرمالیا اور حضرت مولوی صاحب معہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ٹھہر گئے۔چونکہ وہاں پر عیسائیوں نے اپنے پراپیگنڈہ کی مہم تیز کر دی تھی اور مسلمان حضرات بھی ان کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے تھے۔اس لئے انہوں نے درخواست کی کہ حضرت مولوی صاحب عیسائیوں اور آریوں کے رد میں تقریر فرما دیں۔چنانچہ آپ نے ان کی خواہش کے مطابق نہایت ہی ٹھوس اور عالمانہ رنگ میں تقریر فرمائی۔بعد ازاں وہ کچھ سوالات بھی کرتے رہے۔جن کے آپ نے تسلی بخش جوابات دیئے۔آپکی مشہور کتاب فصل الخطاب“ بھی ان کے پاس موجود تھی۔اس سے استفادہ کر کے وہ عیسائیوں کے اعتراضات کے جوابات دیا کرتے تھے۔جنڈیالہ ضلع امرتسر میں ایک مشہور قصبہ ہے۔