حیاتِ نور

by Other Authors

Page 146 of 831

حیاتِ نور — Page 146

سے ضعف بڑھتا ہے اور نہایت سرور بخشنے والی یہ آیت مبارکہ ہے۔الم تعلم ان الله على كل شي قدير ـور ”میرے نزدیک یہ امر نہایت ضروری ہے کہ آپ نکاح ثانی کے امر کو سرسری نگاہ سے نہ دیکھیں۔بلکہ اس کو کسل و حزن دور کرنے کے لئے ضروری خیال کریں اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے امید ہے کہ آپ کو نکاح ثانی سے اولا دصالح بخشے۔میرا اس طرف زیادہ خیال نہیں ہے کہ کوئی اہلیہ پڑھی ہوئی ملے۔میں یقین کرتا ہوں کہ اگر مرد ہو یا عورت پاکیزہ ذہن اور فطرت سے عمدہ استعداد رکھتا ہو تو امنیت اس کے لئے کوئی بڑا سد راہ نہیں ہے۔جلدی صحت سے ضروریات دین و دنیا سے خبر دار ہو سکتا ہے۔ضروری یہ امر ہے کہ عقیلہ ہو اور حسن ظاہری بھی رکھتی ہو۔تا اس سے موافقت اور محبت پیدا ہو جائے۔آپ اس محل زیر نظر میں اس شرط کی اچھی طرح تفتیش کر لیں۔اگر حسب دلخواہ نکل آوے تو الحمد للہ ورنہ دوسرے مواضع میں تمامتر جد و جہد سے تلاش کرنا شروع کیا جائے۔بندہ کی طرف سے کوشش ہے اور مطلوب کو میسر کر دینا قادر مطلق کا کام ہے۔بہر حال اس عالم اسباب میں جدو جہد پر نیک ثمرات مل جاتے ہیں۔میں نے ابتک کسی دوست کی طرف اس تلاش کے لئے نہیں لکھا کیونکہ ابھی تک آپ کی طرف سے قطعی اور یک طرفہ رائے مجھ کو نہیں ملی۔اس لئے مکلف ہوں کہ درمیانی خیالات کا جلد تصفیہ کر کے اگر جدید تلاش کی ضرورت پیش آدے تو مجھے اطلاع بخشیں۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا تھا۔آپ اپنے مصارف کی نسبت ہوشیار ہو جائیں کہ انہیں اموال سے قیام معیشت ہے اور اپنی ضروریات کے وقت بھی موجب ثواب عظیم ہو جاتے ہیں اور جیسا کہ آپ نے عہد کر لیا ہے کسی حالت میں ثلث سے زیادہ خرچ نہ کریں۔(۲۹ فروری ۱۸۸۸ء) اس سلسلہ میں حضرت اقدس اور حضرت مولوی صاحب کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔مختلف جگہوں پر تجویزیں ہوتی رہیں اور آخر وہ تحریک کامیاب ہوئی جو حضرت صوفی احمد جان صاحب لودھیانوی کی دختر سیدہ صغری بیگم صاحبہ کے لئے کی گئی تھی۔چنانچہ ذیل کا مکتوب اس پر خاصی روشنی ڈالتا ہے۔