حیاتِ نور — Page 147
ـور د و بسم اللہ الرحمن الرحیم ۱۴۷ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمہ تعالٰی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته ” ہر دو عنایت نامے پہنچ گئے۔خدائے قادر ذوالجلال آپ کے ساتھ ہو۔اور آپ کو اپنے ارادت خیر میں مدد دیوے۔اس عاجز نے آں مخدوم کے نکاح ثانی کی تجویز کے لئے کئی جگہ خط روانہ کئے تھے۔ایک جگہ سے جو جواب آیا ہے وہ کسی قدر حسب مراد معلوم ہوتا ہے یعنی میر عباس علی شاہ صاحب کا خط جو روانہ خدمت کرتا ہوں اس خط میں ایک شرط عجیب ہے کہ حنفی ہوں، غیر مقلد نہ ہوں۔چونکہ میر صاحب بھی حنفی اور میرے مخلص دوست منشی احمد جان صاحب ( خدا تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے ) جنگی با برکت لڑکی سے یہ تجویز در پیش ہے، پکے حنفی تھے اور ان کے مرید جو اس علاقہ میں بکثرت پائے جاتے ہیں حنفی ہیں۔اس لئے حنفیت کی قید بھی لگادی گئی۔یوں تو حیفا مسلما میں سب مسلمان داخل ہیں لیکن اس قید کا جواب بھی معقولیت سے دیا جائے تو بہتر ہے۔اب میں تھوڑ اسا حال منشی احمد جان کا سناتا ہوں۔منشی صاحب اصل میں متوطن دہلی کے تھے۔شاید ایام مفسدہ ۱۸۵۷ء میں لودھیا نہ آ کر آباد ہوئے کئی دفعہ میری ان سے ملاقات ہوئی۔نہایت بزرگوار خوبصورت ، خوب سیرت، صاف باطن، متقی ، با خدا اور متوکل آدمی تھے۔مجھ سے کسی قدر دوستی اور محبت کرتے تھے کہ اکثر اُن کے مریدوں نے اشار تا اور صراحنا بھی سمجھایا کہ آپ کی اس میں کسر شان ہے مگر انہوں نے ان کو صاف جوابد یا کہ مجھے کسی شان سے غرض نہیں اور نہ مجھے مریدوں سے کچھ غرض ہے۔اس پر بعض نالائق خلیفے ان سے منحرف بھی ہو گئے مگر انہوں نے جس اخلاص اور محبت پر قدم مارا تھا اخیر تک نبھایا اور اپنی اولاد کو بھی یہی نصیحت کی۔جب تک زندہ رہے خدمت کرتے رہے اور دوسرے تیسرے مہینے کسی قدر رو اپنے اپنے رزق خداداد سے مجھے بھیجتے رہے اور میرے نام کی اشاعت کے لئے بدل و جان ساعی رہے اور پھر حج کی تیاری کی اور جیسا کہ انہوں نے اپنے ذمہ مقرر کر رکھا تھا جاتے وقت پچیس روپے بھیجے اور