حیاتِ نور

by Other Authors

Page 145 of 831

حیاتِ نور — Page 145

ـور ۱۴۵ طور پر تبلیغ کا کام لیا جا سکے۔اس لئے حضرت مولوی صاحب کے دل میں جوش پیدا ہوا کہ کچھ نو جوانوں کو اعلیٰ دینی و دنیوی تعلیم دلوا کر ان سے خدمت دین کا کام لیا جائے۔مگر چونکہ اس وقت ابھی اس کام کے لئے ارادہ الہی نہ تھا اس لئے کامیابی نہ ہوئی۔چنانچہ آپ نے مارچ ۱۹۰۲ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مجلس تحقیق الادیان نام سے قائم کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی، کے افتتاحی جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: میں نے بھی ایک دفعہ چند نو جوانوں کو منتخب کر کے مختلف زبانوں مثلاً عبرانی، فرینچ، جرمن وغیرہ کی تحصیل کے واسطے مقرر کیا تھا اور ان کے تمام اخراجات کا کفیل بھی ہوا۔مگر چونکہ ارادہ الہی اس وقت نہ تھا اور یہ کام اس زمانہ کے لئے مقدر تھا۔اس لئے اس میں کامیابی نہ ہوئی۔حضرت مولوی صاحب کی شادی مارچ ۱۸۸۹ء حضرت مولوی صاحب کی دوسری شادی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اواخر ۱۸۸۷ء سے کوشش فرما رہے تھے۔مگر موزوں رشتہ کا فیصلہ اوائل ۱۸۸۸ء میں جا کر ہوا۔اور شادی مارچ ۱۸۸۹ء میں ہوئی۔ابتدائی تحریک سے متعلق حالات حضور کے مندرجہ ذیل مکتوب سے معلوم ہوتے ہیں۔بسم اللہ الرحمن الرحیم مخدومی مکر می اخویم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔عنایت نامہ عین انتظار میں پہنچا۔ابھی وہ خط میں نے کھولا تھا کہ با بوالہی بخش کے کارڈ کے پڑھنے سے کہ ساتھ ہی اسی ڈاک میں آیا تھا۔نہایت تشویش ہوئی۔کیونکہ اس میں لکھا تھا کہ آپ لاہور میں علاج کروانے کے لئے تشریف لے گئے تھے اور ڈاکٹروں نے کہا کہ کم از کم پندرہ دن تک سب ڈاکٹر مل کر معائنہ کریں تو حقیقت مرض معلوم ہو۔مگر آپ کے خط کھولنے سے کسی قدر رفع اضطراب ہوا۔مگر تا ہم تر در باقی ہے کہ مرض تو بکلی رفع ہو گئی تھی۔صرف ضعف باقی تھا۔پھر کس لئے ڈاکٹروں کی طرف التجا کی گئی۔شاید بعض ضعف وغیرہ کے لحاظ سے بطور دوراندیشی مناسب سمجھا گیا۔میری دانست میں جہانتک ممکن ہے آپ زیادہ ہم وغم سے پر ہیز کریں کہ اس