حیاتِ نور

by Other Authors

Page 119 of 831

حیاتِ نور — Page 119

119 پوچھا کہ "آپ کی مریدی میں کیا مجاہدہ کرنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں ترقی ہو۔آپ نے فرمایا: میں یہ مجاہدہ بتاتا ہوں کہ آپ عیسائیوں کے مقابلہ میں ایک کتاب لکھیں“۔آپ نے عرض کیا کہ حضرت! الزامی جوابات کے متعلق حضور کی کیا رائے ہے؟ فرمایا۔بڑی ہی بے انصافی ہوگی۔اگر ایک بات جسے انسان خود نہیں مانتا دوسرے کو منوانے کے واسطے تیار ہو۔ہاں اگر کوئی ایسا ہی مشکل سوال آپ کی راہ میں آ جائے جس کا جواب ہرگز آپ کی سمجھ میں نہ آسکے تو مناسب طریق یہ ہے کہ آپ یہ سوال نہایت ہی خوشخط اور جلی قلم سے لکھ کر اپنی نشست گاہ کے سامنے جہاں ہمیشہ نظر پڑتی رہے لٹکا دیا کریں۔یہانتک کہ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنے خاص فضل سے فیضان نازل فرمائے۔اور یہ عقدہ حل ہو جائے۔حضرت مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس طریق دعا کا میں پہلے ہی قائل تھا کہ مجھے اس کی مضبوط چٹان پر حضرت اقدس نے کھڑا کر دیا۔خاکسار راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ حضرت اقدس نے حضرت مولانا صاحب کو یہ مجاہدہ غالباً اس لئے بتایا کہ آپ کا سب سے بڑا مقابلہ عیسائی مذہب سے تھا اور حضرت مولوی صاحب کو عیسائیت سے بہت کم واقفیت تھی۔آپ نے سوچا کہ حضرت مولوی صاحب اس سلسلہ کے لئے زیادہ مفید وجود تب ہی ہو سکتے ہیں جب عیسائی مذہب کا پورے غور و فکر کے ساتھ مطالعہ کریں۔چنانچہ آپ نے حضور کے ارشاد کی تعمیل میں عیسائی لٹریچر کی پوری چھان بین اور گہری تحقیق و تدقیق کے بعد ایک مضم هیم کتاب لکھی جس کا نام " الفصل الخطاب ہے۔آپ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مجھ کو عیسائی مذہب سے واقفیت نہ تھی۔ان کے اعتراضوں کی بھی خبر نہ تھی کہ کیا کیا اعتراض ہوتے ہیں۔پھر یہ کہ میں اپنے آپ کو کبھی فرصت میں نہیں رکھتا۔اور اس کام کے لئے فراغت و فرصت کی بھی ضرورت تھی۔جموں میں تو مجھ کو فرصت بہت ہی کم تھی۔آپ کے ذریعہ ایک حافظ قرآن عیسائی ہونے سے بچ گیا ” جب میں قادیان سے یہ حکم لے کر اپنے وطن پہنچا تو وہاں میرا ایک ہم مکتب