حیاتِ نور

by Other Authors

Page 120 of 831

حیاتِ نور — Page 120

۱۲۰ حافظ قرآن مجید کا پیش امام تھا۔وہ میرے سامنے تقدیر کا مسئلہ لے بیٹھا اور اس نے اس مسئلہ کے پیش کرنے میں بڑی شوخی سے گفتگو کی۔میں حیران اس کے منہ کو دیکھتا کہ فرفر بولتا تھا۔حالانکہ مسجد کے ملا میں اس قدر شوخی نہیں ہوتی۔جب لوگ چلے گئے تو میں نے اس کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ حافظ صاحب! مجھ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ عیسائی ہو گئے ہیں۔اس نے کہا۔عیسائی ہو گئے ہیں تو ہرج ہی کیا ہے؟ میں نے کہا اپنے گرو سے ذرا مجھ کو بھی ملاؤ۔چنانچہ وہ مجھ کو پنڈ دادنخاں لے گیا۔دریا سے اترے تو ایک گاؤں کے نمبردار نے کہا تمہاری دعوت ہے۔میں نے کہا۔شہر سے واپس آ کر دعوت کھائیں گے۔چنانچہ میں اور حافظ صاحب دونوں ایک انگریز کی کوٹھی میں جا دھمکے۔حافظ صاحب تو پہلے سے واقف ہی تھے۔پادری صاحب ملاقات کے کمرے میں تشریف لائے۔میں نے کہا۔پادری صاحب ! میرے آنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہمارے ہم مکتب آپ کے مرید ہو گئے ہیں۔آپ ہم کو بھی کچھ سنائیں۔مطلب میرا یہ تھا کہ ان کے مذہب کا پتہ لگے۔اگر وہ اس وقت اعتراض پیش کرتا تو کوئی ایک دو ہی اعتراض کرتا کیونکہ میں نے پادری صاحب سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ لمبی بحث نہ کریں۔اپنے مذہب کا خلاصہ، ہمارے مذہب کا خلاصہ اور صرف ایک اعتراض بطور خلاصہ پیش کریں مگر پادری صاحب کچھ ایسے مرعوب ہوۓ کہ میری بات کو ٹال کر ہمارے لئے چائے بسکٹ کا اہتمام کرنے لگے۔میں نے کہا کہ میں اس شہر میں چار برس ہیڈ ماسٹر رہ چکا ہوں اور یہاں میری کافی واقفیت ہے۔ہم کو چائے وغیرہ کی ضرورت نہیں۔آپ ہم سے گفتگو کریں۔میں نے حافظ صاحب سے بھی کہا کہ تم اس کو اکساؤ۔چنانچہ حافظ صاحب اس کو علیحدہ لے گئے اور بہت دیر تک باتیں کر کے واپس آئے اور کہا کہ میں نے بہت زور لگایا مگر یہ تو آگے چلتا ہی نہیں۔یہ کہتا ہے کہ میں ان سے زبانی گفتگو نہ کروں گا۔ہاں بعد میں اعتراضات لکھ کر بھجوا دوں گا۔میں نے حافظ صاحب سے کہا جب تک ان کے اعتراضات ہمارے پاس پہنچیں اور ہماری طرف سے جواب نہ ہو لے اس وقت تک آپ بپتسمہ نہ لیں۔حافظ صاحب نے کہاہاں یہ تو ضرور ہو گا۔میں نے