حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 65 of 104

حیاتِ ناصر — Page 65

حیات ناصر 65 مکان نہ ملنے کی وجہ سے تکلیف ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ کیا دکھ ہوتا ہے اس تکلیف کو محسوس کر کے میر صاحب نے کم از کم سر دست دس ایسے گھر بنانے کا ارادہ کیا ہے اور اس تجویز کو حضرت خلیفتہ اسیح سلمہ اللہ تعالیٰ نے ایسا پسند فرمایا کہ خود اس میں دس روپیہ چندہ دیا۔میں نے اس خیال سے کہ دوسرے احباب کو بھی اس نیکی کی تحریک میں شامل کیا جاوے اس مضمون کو لکھنا ضروری سمجھا اورس کی تکمیل کے لئے میں حضرت خلیفہ مسیح سلمہ اللہ تعالیٰ کی تحریر آخر میں درج کرتا ہوں۔یہ یا درکھو کہ بے شک قحط سالی کے اثر کے نیچے ہم ہیں مگر خدا تعالیٰ کی رضا اور اپنے غریب بھائیوں کی امداد کے لئے بھی ایسے ہی وقت میں ہاتھ بڑھانے کا ثواب قابل رشک ہے۔جو صاحب ان چندوں میں جو مسجد اور ہسپتال مردانہ اور زنانہ اور ضعیفوں کے گھروں کے لئے تجویز ہوئے ہیں اور جن کے لئے حضرت خلیفہ اسیح نے دوسوساٹھ روپے کا وعدہ فرمایا ہے اور ستر نقد بھی دیئے ہیں شریک ہونا چاہیں وہ براہ راست حضرت میر ناصرنواب صاحب کے نام قادیان میں رو پیج دیں۔اب حضرت خلیفہ ایسی صاحب کی تحریر ذیل میں چھاپ دیتا ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح کا ارشاد عالی مکرم معظم حضرت میر صاحب! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته آپ کے کاموں اور خواہشوں کو دیکھ کر میری خواہش ہوتی اور دل میں بڑی تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ جس طرح آپ کے دل میں جوش ہے کہ شفاخانہ زنانہ، مردانہ مسجد اور دور الضعفاء کے لئے چندہ ہو اور آپ ان میں سچے دل سے سعی و کوشش فرما رہے ہیں اور حمد اللہ آپ کے اخلاص صدق وسچائی کا نتیجہ نیک ظاہر ہورہا ہے اور ان کاموں میں آپ کے ساتھ والے قابل شکر گزاری سے پُر جوش ہیں۔ہمارے اور تمام کاموں میں سعی کرنے والے ایسے ہی پیدا ہوں۔وما ذالک علی الله بعزیز۔(نورالدین - ۳۰/اپریل ۱۹۰۹ء) حضرت میر صاحب قبلہ بحیثیت لیکچرار حضرت میر صاحب قبلہ جیسا کہ میں نے لکھا ہے کہ باقاعدہ مناظر نہ تھے مگر جب وہ سلسلہ کے متعلق کسی کے اعتراضوں کا جواب دیتے تو انہیں ذرا بھی جھجک اور خوف نہ ہوتا تھا۔وہ بڑے سے بڑے مولوی کی بھی پرواہ نہ کرتے تھے۔دنیوی علوم پر نہ انہیں گھمنڈ تھا نہ انہوں نے باقاعدہ ان کی تحصیل کی تھی مگر اس میں ذرا بھی کلام نہیں کہ ان کا طریق استدلال نہایت صاف اور سادہ ہوتا تھا منطقی قضایا اور مولویانہ کٹ حجتیاں اس میں نہ ہوتی تھیں۔