حیاتِ ناصر — Page 64
حیات ناصر 64 حضرت خلیفہ اول کی تائید اور اظہار پسندیدگی میر ناصر نواب کو جو آجکل انجمن ضعفاء کے سرگرم ممبر ہیں ایک جوش پیدا ہوا کہ ان بیماروں کے لئے ایک وسیع مکان بنانا ضروری ہے۔تاکہ ڈاکٹر اور طبیب ایک ہی جگہ ان کو دیکھ لیا کریں اور ان کی تیمار داری میں کافی سہولت ہو۔ان کی اس جوش بھری خواہش کو میں نے محسوس کر کے ایک سوروپیہ کا وعدہ ان سے بھی کر لیا ہے اور ۳۰ روپے نقد بھی دیئے۔ایک پرانی رقم ساٹھ روپیہ کی جو اس کام کے لئے جو میں نے جمع کی اس کے بھی نکلوادینے کا وعدہ کیا۔اس جوش بھرے مخلص نے قادیان کی بستی مخالفوں اور موافقوں ہندو اور مسلمان دشمن و دوست سب کو چندہ کے لئے تحریک کی۔جہاں تک مجھے علم ہے اس کا اثر تھا کہ رات کے وقت میری بیوی نے مجھ سے بیان کیا کہ آج جو میر صاحب نے تحریک کی ہے اس میں میں نے بچے دل اور کامل جوش اور پورے اخلاص سے چندہ دیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اگر ایسے مکان کے لئے ہمارے کوئی مکان کسی طرح بھی مفید ہوسکیں تو میں اپنی خام حویلی دینے کو دل سے تیار ہوں۔یہ سب کچھ میر صاحب کے اخلاص اور دلی جوش کا نتیجہ تھا۔میں نے اس بچے عقد ہمت اور جوش کو دیکھ کر ایک ایسے آدمی سے جو میرے خیال میں کبھی چندہ میں شریک نہیں ہوا اور غالباً وہ چندوں سے مستفیض بھی ہے یہ کہا کہ ایسے جوش سے اگر آپ لوگ عربی میں دینیات میں تعلیم کے واسطے پُر جوش کوشش کرتے تو آپ بھی یقیناً بہت بڑے کامیاب ہو جاتے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے ایک ہی دفعہ نہیں متعدد مرتبہ حضرت میر صاحب کی مساعی جمیلہ کو سراہا اور جماعت کو اس میں حصہ لینے کی تحریک فرمائی۔میں نے ایک مرتبہ ۱۹۰۹ ء میں حضرت میر صاحب کے کاموں میں امداد کے لئے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے ایک گرامی نامہ کی تحریک پر ایک نوٹ لکھا تھا اس کی چند سطریں اور وہ گرامی نامہ بھی حیات ناصر کا ایک جزو ہے اور اس مقام کے لئے موزوں ہے۔پچھلے دنوں میرے محترم مخدوم حضرت میر ناصر نواب صاحب نے مسجد ہسپتال زنانہ و مردانہ کے لئے چندہ کی تحریک کی اور اس غرض کے لئے وہ پندرہ ہزار جمع کرنا چاہتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی آپ نے قادیان کے رہنے والے مہاجرین میں سے ضعفاء کی اعانت اور ہمدردی کے لئے قدم اُٹھایا اور باضابطہ ایک انجمن ضعفاء قائم کی۔اس کے ذریعے سے جو کام ہوا ہے وہ ان غریبوں اور ضعیفوں سے پوچھنا چاہیئے جو اس سے فائدہ اُٹھا چکے ہیں۔ان کی تکالیف میں مکانات کا نہ ہونا حضرت میر صاحب موصوف نے درد دل سے محسوس کیا۔شاید آرام سے برقی پنکھوں کے نیچے بیٹھنے اور برف اور سوڈا واٹر کے پینے والے ان بے گھروں کی تکالیف کا اندازہ نہ کرسکیں مگر وہ شخص جسے