حیاتِ ناصر — Page 66
حیات ناصر 66 وہ بڑی دلیری اور جرات کے ساتھ کلام کرتے تھے۔اسی طرح وہ زمانہ حال کے لیکچراروں کی طرح لیکچرار نہ تھے مگر اپنے مضمون پر نہایت عمدگی سے بولتے اور حاضرین کے ذہن نشین کر دینے کی پوری قابلیت رکھتے تھے۔۱۹۱۰ء کے سالانہ جلسہ پر حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ عنہ نے آپ کو بھی تقریر کے لئے موقع دیا۔آپ کی تقریر عام فہم ہی نہ تھی بلکہ نہایت ضروری اور اہم تھی۔آپ نے الدین نصح کے مضمون پر تقریر کی۔لیکچر کے ابتداء میں آپ نے دنیا کی عام حالت اور اہل حرفہ کی قابل اصلاح صورت پر روشنی ڈالی۔کس طرح ایک درزی، ایک زرگر، ایک دھوبی وغیرہ اپنے اپنے پیشوں اور حرفوں میں باوجود حلال اور طیب کسب رکھنے کے خدا کی نافرمانی کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر جماعت کو اس کے عام فرائض کی طرف ایسی عمدگی سے توجہ دلائی کہ ہر شخص جزاک اللہ ومرحبا کہتا تھا۔چونکہ ان کا یہ ایک ہی پبلک لیکچر کہا جا سکتا ہے اس لئے میں اس کے آخری حصہ کو یہاں دے دیتا ہوں۔اما بعد واضح ہو کہ دنیا میں ضرورت کے وقت ہر ایک جسمانی وروحانی سلسلہ قائم ہوا کرتا ہے ( یہ سنت اللہ ہے ) ایک مدت تک اس کا قیام رہتا ہے آخر بسبب لوگوں کی ناشکری اور سستی اور شرارت کے وہ سلسلہ برباد ہو کر دوسرا سلسلہ پیدا اور جاری ہو جاتا ہے۔بموجب مفہوم آیت کریمہ ان الله لايـغـيـر مـابـقــوم حتى يغيروامابانفسهم اللہ تعالیٰ کسی قوم کو بنا کر برباد نہیں کرتا۔نہ کسی فرقہ کو عزت دے کر ذلت دیتا ہے۔نہ کسی کو دولت بخش کر فقیر کرتا ہے۔نہ کسی کو ملک دے کر چھینتا ہے۔نہ کسی کو علم و ہنر عطا کر کے بے ہنر و جاہل کرتا ہے یہاں تک کہ وہ خود ہی اپنی تباہی کے اسباب نہ پیدا کریں اور اپنی نیک نیتوں کو بدنیتیوں کے ساتھ تبدیل نہ کر لیں اور اپنے نیک افعال کو بدا فعالی میں نہ بدل لیں اور اپنی چستی کوستی بنا ئیں۔جب ان کی شرارتوں اور بدا فعالیوں کی حد ہو جاتی ہے اور وہ باز نہیں آتے اور توبہ و استغفار نہیں کرتے تب خدا ان پر عذاب نازل کرتا ہے اور ان کے گناہوں اور نا فرمانیوں کے سبب سے ان کی حالت کو بدل دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے قہر کی آگ تب بھڑکتی ہے جب لوگ اپنے گناہوں کا ایندھن خود جمع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا مگر ظالم کو اس کے ظلم کی سزادیتا ہے۔یاد رکھو کہ فقط اس سلسلہ میں داخل ہونے سے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام وخلیفہ اسی کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے نجات نہیں ہوتی جب تک پورے پورے قرآن شریف کے محکوم نہ بنو اور رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی اتباع اختیار نہ کرو اور اپنے مسیح کے فرمودہ کے موجب راہ نہ پکڑو اور متقی اور محسن نہ ہو جاؤ اور اپنی شیطانی برادری اور پچھلے دوستوں سے علیحدگی نہ کرو اور اپنی پچھلی کرتوت بکنی نہ چھوڑو ورنہ تم میں اور ان میں فرق ہی کیا ہے۔اعمال