حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 63 of 104

حیاتِ ناصر — Page 63

حیات ناصر 63 حضرت میر صاحب کی زندگی کا نیا دور جلسه ۱۸۹۲ء پر حضرت میر صاحب کی زندگی میں ایک عظیم الشان انقلاب ہوا جیسا کہ خود انہوں نے بیان کیا ہے۔وہ اس سے پہلے سلسلے کے مخالف تھے لیکن اب انہوں نے حیات تازہ پائی اور وہ سلسلہ کے ایک مخلص اور وفا دار خادم کی طرح نمودار ہوئے۔اس تاریخ کے بعد ان کی زندگی میں کوئی لمحہ اور ساعت ایسی نہیں آئی کہ انہیں کسی قسم کا ابتلاء آیا ہو۔سلسلہ کی تاریخ میں اس کے بعد کئی موقعے ایسے آئے کہ بعض بڑے بڑے لوگوں کو ابتلاء آیا اور بعض ان میں سے اپنی بدقسمتی سے سلسلہ سے الگ ہوئے مگر حضرت میر صاحب کو کبھی کسی قسم کا وسوسہ پیدا نہیں ہوا۔ان ٹھو کر کھانے والوں میں بعض اوقات وہ لوگ بھی تھے جن کے ساتھ ان کے سالہا سال کے مذہبی اور اپنے صیغہ ملازمت کے تعلقات تھے۔مثلا نشی الہی بخش صاحب منشی عبدالحق لاہوری ، حافظ محمد یوسف امرتسری ان کے ساتھ محکمہ کے تعلقات ہی نہ تھے بلکہ وہ حضرت مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے زمانہ سے ان کے واقف اور دوست تھے لیکن جب انہوں نے سلسلہ سے قطع تعلق کیا تو حضرت میر صاحب کو ان سے قطع تعلق کر لینا کچھ بھی مشکل نہ تھا۔اسی طرح اپنے بعض عزیزوں سے کوئی تعلق نہ رکھا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے زمانہ اہلحدیث کے تعلقات تھے۔ان سب کو توڑ دیا اس لئے کہ خدا کے لئے ان سب کو توڑنا ہی ضروری تھا۔پنشن لے کر آجانے کے بعد انہوں نے اپنی عملی زندگی سے دکھایا کہ وہ سلسلہ کے لئے ہر خدمت کرنے پر آمادہ ہیں اور اپنی زندگی کے آخری دم تک وہ سلسلہ کے خادم رہے اور بنی نوع انسان کی بھلائی کے خیالات کو ایک لمحہ کے لئے بھی انہوں نے ترک نہ کیا۔ایسی مبارک زندگی ہر شخص کو نہیں ملتی اور آج مرنے کے بعد بھی نیکی کے متعدد کام بطور صدقہ جاریہ ان کے اعمال حسنہ میں اضافہ اور ان کے مدارج میں ترقی کا موجب ہیں۔ناصر وارڈ منجملہ ان کے ایک ناصر وارڈ ہے جس کو آج نور ہسپتال کہا جاتا ہے۔یہ خیال سب سے اول حضرت میر صاحب کو ہی آیا۔میں پہلے بھی اس کا مختصر ذکر کر آیا ہوں۔اس کی اہمیت کے لئے میں چاہتا ہوں کہ حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ نے جو کچھ فرمایا اسے یہاں دیدوں۔