حیاتِ ناصر — Page 56
حیات ناصر 56 کے روحانی عروج کی ابتداء ہے یہاں درج نہ کروں۔حضرت میر صاحب کا یہ بیان جو آج سے ۳۵ برس پیشتر انہوں نے شائع کیا تھا ان کی سیرۃ واخلاق کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔ان نتائج کو میں پڑھنے والوں کے لئے چھوڑ دیتا ہوں۔فمن تاب من بعد ظلمه واصلح فان الله يتوب عليه ان الله غفور رحیم۔بسم الله الرحمن الرحيم کیفیت جلسه سالانه قادیان ضلع گورداسپوره تاریخ ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۲ء بر مکان جناب مجد د وقت مسیح الزمان مرزا غلام احمد صاحب سلمہ الرحمن اور اس پر بندہ کی رائے جو ملاقات مرزا صاحب موصوف اور معاینہ جلسہ اور اہلِ جلسہ کے بعد قائم ہوئی مرزا صاحب نے مجھے بھی باوجود یکہ ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ میں ان کا مخالف ہوں نہ صرف مخالف بلکہ بد گو بھی اور یہ مکر ر۔سہ کر مجھ سے وقوع میں آچکا ہے جلسہ پر بلایا اور چند خطوط جن میں ایک رجسٹری بھی تھا بھیجے۔اگر چہ پیشتر بسبب جہالت اور مخالفت کے میرا ارادہ جانے کا نہ تھا لیکن مرزا صاحب کے بار بار لکھنے سے میرے دل میں ایک تحریک پیدا ہوئی۔اگر مرزا صاحب اس قدر شفقت سے نہ لکھتے تو میں ہرگز نہ جاتا اور محروم رہتا مگر یہ انہیں کا حوصلہ تھا۔آجکل کے مولوی تو اپنے سگے باپ سے بھی اس شفقت اور عزت سے پیش نہیں آتے۔میں ۲۷ / تاریخ کو دوپہر سے پہلے قادیان میں پہنچا۔اس وقت مولوی حکیم نورالدین صاحب مرزا صاحب کی تائید میں بیان کر رہے تھے اور قریب ختم کے تھا افسوس کہ میں نے پورا نہ سنا۔لوگوں سے سنا کہ بہت عمدہ بیان تھا۔پھر حامد شاہ صاحب نے اپنے اشعار مرزا صاحب کی صداقت اور تعریف میں پڑھے لیکن چونکہ مجھے ہنوز رغبت نہیں تھی اور میرادل غبار آلودہ تھا کچھ شوق اور محبت سے نہیں سنا لیکن اشعار عمدہ تھے۔اللہ تعالیٰ مصنف کو جزائے خیر عنایت فرمادے۔جب میں مرزا صاحب سے ملا اور وہ اخلاق سے پیش آئے تو میرا دل نرم ہوا گویا مرزا صاحب کی نظر سرمہ کی سلائی تھی جس سے غبار کدورت میرے دل کی آنکھوں سے دور ہوگیا اور غیظ و غضب کے نزلہ کا پانی