حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 57 of 104

حیاتِ ناصر — Page 57

حیات ناصر 57 خشک ہونے لگا اور کچھ کچھ دھندلا سا مجھے حق نظر آنا شروع ہوا اور رفتہ رفتہ باطنی بینائی درست ہوئی۔مرزا صاحب کے سوا اور کئی بھائی اس جلسہ میں ایسے تھے کہ جن کو میں حقارت اور عداوت سے دیکھتا تھا۔اب ان کو محبت اور الفت سے دیکھنے لگا اور یہ حال ہوا کہ کل اہل جلسہ میں جو مرزا صاحب کے زیادہ محب تھے وہ مجھے بھی زیادہ عزیز معلوم ہونے لگے۔بعد عصر مرزا صاحب نے کچھ بیان فرمایا جس کے سننے سے میرے تمام شبہات رفع ہو گئے اور آنکھیں کھل گئیں۔دوسرے روز صبح کے وقت ایک امرتسری وکیل صاحب نے اپنا عجیب قصہ سنایا جس سے مرزا صاحب کی اعلیٰ درجہ کی کرامت ثابت ہوئی۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وکیل صاحب پہلے سنت جماعت مسلمان تھے جب جوان ہوئے رسمی علم پڑھا تو دل میں بسبب مذہبی علم سے ناواقفیت اور علماء وقت اور پیرانِ زمانہ کے باعمل نہ ہونے کے شبہات پیدا ہوئے اور تسلی بخش جواب کہیں سے نہ ملنے کے باعث سے چند بار مذہب تبدیل کیا۔سنی سے شیعہ بنے وہاں بجز تبر ابازی اور تعر یہ سازی کچھ نظر نہ آیا۔آریہ ہوئے چند روز وہاں کا مزا چکھا مگر لطف نہ آیا۔برہمو میں شامل ہوئے ان کا طریق اختیار کیا لیکن وہاں بھی مزا نہ پایا۔نیچری بنے لیکن اندرونی صفائی یا خدا کی محبت کچھ نورانیت کہیں بھی نظر نہ آئی۔آخر مرزا صاحب سے ملے اور بہت بے باکانہ پیش آئے مگر مرزا صاحب نے لطف سے ، مہربانی سے کلام کیا۔اور ایسا اچھا نمونہ دکھایا کہ آخر کار اسلام پر پورے پورے جم گئے اور نمازی بھی ہو گئے اللہ ورسول کے تابع دار بن گئے۔اب مرزا صاحب کے بڑے معتقد ہیں۔رات کو مرزا صاحب نے نواب صاحب سے کے مقام پر بہت عمدہ تقریر کی اور چند اپنے خواب اور الہام بیان فرمائے۔چندلوگوں نے صداقت الہام کی گواہیاں دیں جن کے رو برو وہ الہام پورے ہوئے۔ایک صاحب نے صبح کو بعد نماز صبح عبد اللہ صاحب غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک خواب سنایا جبکہ عبداللہ صاحب خیر دی گاؤں میں تشریف رکھتے تھے۔عبداللہ صاحب نے فرمایا ہم نے محمد حسین بٹالوی کو ایک لمبا کرتہ پہنے دیکھا اور وہ کر تہ پارہ پارہ ہو گیا۔یہ بھی عبداللہ صاحب نے فرمایا تھا کہ گرتے سے مراد علم ہے آگے پارہ پارہ ہونے سے عقلمند خود سمجھ سکتا ہے کہ گویا علم کی پردہ دری مراد ہے جو آجکل ہو رہی ہے اور معلوم نہیں کہ کہاں تک ہوگی۔جو اللہ تعالیٰ کے ولی کو ستا تا ہے گویا اللہ تعالیٰ سے لڑتا ہے آخر کچھپڑے گا۔اب مجھے بخوبی ثابت ہوا کہ لوگ بڑے بے انصاف ہیں جو بغیر ملاقات اور گفتگو کے مرزا صاحب کو دور سے بیٹھے دجال کذاب بنارہے ہیں اور ان کے کلام کے غلط معنی گھڑ رہے۔یہ با بومحکم الدین صاحب وکیل سے مراد ہے۔عرفانی ے۔نواب صاحب مالیر کوٹلہ جو اس وقت مع چند اپنے ہمراہیوں کے شریک جلسہ تھے۔