حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 55 of 104

حیاتِ ناصر — Page 55

حیات ناصر 55 حضرت میر صاحب کی بیعت حضرت میر صاحب قبلہ کا تعلق تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس وقت سے تھا جبکہ ابھی آپ نے کوئی دعوی بھی نہ کیا تھا۔حضرت میر صاحب سٹھیالی والی نہر پر اوور سیر تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور اپنے اس وقت کے اخلاص و محبت سے کبھی بعض تحائف بھی لے آتے تھے اور پھر رشتہ کے بعد ایک دوسرا تعلق بھی قائم ہو گیا تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب خدا تعالیٰ کی وحی سے مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تو ان کو پرانے اعتقادات کی بناء پر آپ سے اختلاف ہوا اور جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں وہ الحب لله والبغض الله کے عامل تھے اور انہوں نے دنیوی رشتہ کی ذرا بھی پروانہ کر کے حضرت اقدس کی مخالفت کی اور علی الاعلان مخالفت کی۔یہ مخالفت ان کی حنیفیت کی حقیقت کی موید و مظہر ہے۔انہوں نے جب تک آپ کے دعاوی کو سمجھ نہیں لیا محض رشتہ کے تعلقات کی بنا پر قبول کرنے سے انکار کیا اور نہ صرف انکار کیا بلکہ انکار پر اصرار ہی اصرار نہیں مخالفت کا اظہار اپنے قلم سے کیا۔مشہور مخالف مولوی محمدحسین صاحب نے ان کی نظموں کو بڑے فخر سے اپنے رسالہ میں شائع کیا لیکن ۱۸۹۲ ء کاماہ دسمبر حضرت میر صاحب قبلہ کے لئے ابر رحمت بن کر آیا اور ان کے تمام حجاب دور ہو گئے اور آخر وہ جسمانی تعلقات کے رشتہ سے آگے گذر کر روحانی تعلقات میں بھی مضبوط ہو گئے سالانہ جلسہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے باصرار ان کو بلایا اور اس جلسہ کی شمولیت ہی ان کے لئے راہ نمائی ہوگئی۔پھر ایسے آئے کہ دنیا کی کوئی چیز ان کو اس مقام سے جنبش نہ دے سکی۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رشتہ میں تو مقرب تھے ہی بیعت کر کے روحانی رشتہ اور تعلق میں روز بروز قریب تر ہوتے گئے اور اپنی روحانی ترقی میں ایک بلند مینار پر چڑھنے لگے اور آخر سلسلہ کی خدمت میں ایسے مصروف ہوئے کہ آخر وقت تک وہ اسی میں مصروف رہے۔اس جلسہ پر آنے اور اسکے اثرات کا تذکرہ انہوں نے خود لکھا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی اس تحریر کی آپ اشاعت فرمائی۔میں حضرت نانا جان کے سوانح کو نامکمل سمجھوں گا اگر اس تحریر کو جوان