حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 54 of 104

حیاتِ ناصر — Page 54

حیات ناصر 54 توحید کا ہو دورہ تثلیث ہو دنیا سے دور ہوویں جتنے ہیں بت جہاں میں اللہ کی ہو عبادت جس کی ہے کل خدائی قرآن کی حکومت دنیا میں ہو وے قائم ہو کفر پارہ پارہ اور شرک رائی کائی روشن ہو دین احمد فضل خدا سے ہر دم جو ہیں جنم کے اندھے ان کو بھی دے دکھائی دین محمدی کا اقبال خوب چکے باطل پرست جو ہیں ان کی ہو جگ ہنسائی شکسته حق کی ہو بادشاہی باطل نہ دے دکھائی قرآں کا نور چمکے کندن کی طرح دیکے سورج کی روشنی سے ہو بڑھ کے روشنائی شر اور فساد جاوے دنیا میں امن آوے ظاہر میں خیر و خوبی باطن میں ہو بھلائی بچے ہوں نیک بچے اور ہوں جواں صالح ہوں لائق زیارت دنیا میں باپ مائی ہر نشہ دور ہووے سچا سرور ہووے جو سود خوار ہیں یاں ان کو ملے نہ پائی جھوٹے طبیب جائیں سچے امین آئیں دھوکہ سے جو نہ بیچیں مخلوق میں دوائی ہو صدق و راستی کا دنیا میں بول بالا ہو جھوٹ کی تباہی پھیلے یہاں سچائی آپس میں ہو محبت جائے یہ بغض و نفرت جو دل شکن ہیں ان میں آ جائے دلربائی اب یہ دعا ہے میری دن رات صدق دل سے ناصر کی اس دعا کو حق تک ملے رسائی