حیاتِ ناصر — Page 23
حیات ناصر 23 آخری حصہ میں آپ کو مسجد میں گھر سے آتے جاتے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کس ہمت بلند کے آپ مالک تھے، طبیعت میں استقلال اور عزم تھا۔سب جانتے ہیں کہ مسجد مبارک سے دور دارالعلوم میں رہتے تھے مگر نمازوں میں شمولیت کے لئے وہاں سے چل کر آتے تھے۔یہ قابل رشک حصہ آپ کی زندگی کا تھا۔غرباء کے ساتھ محبت و ہمدردی ایمان کے دو بڑے شعبے میں تعظیم لامر اللہ اور شفقت علی خلق اللہ ، خدا تعالیٰ نے آپ کو دونوں شاخوں میں صحیح اور قابل رشک حصہ دیا تھا۔عبادات میں وہ ایک ذاکر شاغل درویش تھے اور مخلوق کی ہمدردی اور بھلائی کے لئے ان کے دل میں درد تھا اور ہمیشہ انہوں نے اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے کوشش کی اور ان کاموں میں انہیں بہت لذت تھی جو دوسروں کی بھلائی اور خیر خواہی کے ہوں چنانچہ دور الضعفاء ان کی ایک ایسی یادگار ہے جو دنیا کے آخر تک ان کے نام کو زندہ رکھے گی۔یہ ان بہت سے کاموں میں سے ایک ہے جو آپ نے رفاہ عام کے لئے تیار کئے۔قادیان میں ابتداء مکانات کی بڑی قلت تھی اور سلسلہ کے غرباء کے لئے تو اور بھی مشکل تھی جو کرایہ دینے کی مقدرت نہ رکھتے تھے۔اس ضرورت کا احساس کر کے انہوں نے جماعت کے غریب مہاجرین کے لئے کوٹھے بنانے کے لئے ایک تحریک شروع کی۔حضرت نواب صاحب قبلہ نے اس کے لئے زمین دی اور حضرت خلیفتہ اسیح اول رضی اللہ عنہ نے اس کی بناء رکھی اور آج وہ محلہ دار الضعفاء ( ناصر آباد) کے نام سے مشہور ہے۔حضرت میر صاحب نے اس مطلب کے لئے جب چندہ کا آغاز کیا تو ایک کاپی پر انہوں نے ایک پنجابی شعر لکھا صحیح طور پر تو مجھے یاد نہیں مگر قریب قریب یہی تھا ؎ مانگوں نہیں پر مر رہوں پیٹ بھرن کے کاج پر سوارتھ کے کام کو مانگتے مجھے نہ آوے لاج یعنی میں مانگنے کے مقابل میں مررہنے کو ترجیح دیتا ہوں پس اپنی ذات اور پیٹ پالنے کے لئے میں خواہ بھوکا مر جاؤں ہرگز نہیں مانگوں گالیکن رفاہ عام کا سوال ہو اور دوسروں کا بھلا ہوتا ہو اس مقصد کے مانگنے کے لئے قطعا شرم محسوس نہیں کرتا۔آپ کا یہ موٹو ان لوگوں کے لئے جو رفاہ عام کے لئے چندہ حاصل کرنے کے منصب پر مقرر ہیں بہت ہی عمدہ نمونہ ہے۔اس سے ان کی ہمت بلند ہوگی اور ان کے اخلاص میں ترقی۔اس سے حضرت میر صاحب کے