حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 24 of 104

حیاتِ ناصر — Page 24

حیات ناصر 24 اخلاص کی ایک جھلک نمایاں ہے۔وہ خود ایک ایسے عظیم المرتبہ خاندان کی یادگار تھے جن کو بعض نوابوں نے اپنی لڑکیاں دینا فخر سمجھا اور پھر یہ خاندان دینی طور پر بھی ممتاز اور شہرت یافتہ تھا اور اپنی ذات سے بھی ایک معزز عہدہ دار اور گورنمنٹ پنشنر تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ صہری تعلقات کی وجہ سے ان کی عزت اور شان اور بھی بڑھ گئی تھی مگر با وجود ان تمام کے وہ لوگوں کی بھلائی اور خدمت کے لئے چندہ مانگنے میں عار نہ سمجھتے تھے اور حقیقت میں سید القوم خادمھم کا صحیح مفہوم انہوں نے اپنی عملی زندگی سے دکھایا۔پھر اسی سلسلہ میں عام پبلک کے فائدہ کے لئے انہوں نے ایک ہسپتال کے لئے چندہ شروع کیا اور چوہڑوں تک سے اس میں چندہ لیا۔یہ ان کی بے نفسی اور اخلاص کی ایک مثال ہے ان میں تفاخر اور تکلف اگر ہوتا تو وہ کم از کم ایسے موقع پر ان لوگوں سے چندہ نہ لیتے مگر وہ جو کچھ کر رہے تھے خدا کی مخلوق کے لئے اور اس میں کوئی امتیاز ان کے نزدیک نہ تھا وہ سب کو ایک آنکھ سے دیکھتے تھے اور خدا تعالیٰ کی مخلوق سے ربوبیت عامہ کے فیضان کو پا کر تفریق نہ کر سکتے تھے۔ہسپتال کے چندہ میں میں ایک لطیفہ لکھنے سے رک نہیں سکتا ایک دوست سے انہوں نے چندہ مانگاوہ زیادہ دے سکتا تھا مگر اس نے ایک پیسہ دیا اور چند چوہڑوں نے ایک ایک روپیہ دیا۔حضرت میر صاحب کو غیرت دلانا مقصود تھا آپ نے ایک مختصرسی نظم لکھی جس کے آخر میں آتا تھا۔" چگوچوڑھا ایک روپیہ ایک پیسہ" اس دوست کو احساس ہوا اور آخر اس نے اس کمی کو پورا کر دیا۔غرض نہایت جفاکشی اور محنت سے ہندوستان و پنجاب کا دورہ کر کے انہوں نے دور الضعفاء، مسجد نور اور نور ہسپتال ( ناصر واڑہ ) تعمیر کرائے۔انہوں نے ایک مجلس احباب بھی بنائی تھی جس میں آٹھویں روز احباب جمع ہوتے اور اپنے گھروں سے کھانا لا کر ایک دستر خوان پر بیٹھ کر باہم مل کر کھاتے اس میں سب کے سب غرباء اور کمز ور لوگ داخل تھے۔حضرت میر صاحب نہایت محبت و اخلاص کے ساتھ ان صفوں میں بیٹھتے اور اپنے غریب بھائیوں کے ساتھ محبت سے کھانا کھاتے۔وہ دن یاد آتے ہیں تو دل پر ایک ٹھیس لگتی ہے۔وہ شخص جو اپنے اعزاء وامتیاز میں تمام جماعت سے حضرت اقدس کے ساتھ نسبتی ابیات کے لحاظ سے معزز تھا ایک غریب سے غریب بھائی کے پیالہ میں کھا رہا ہے۔اخوت وخلت کی برقی لہریں ایک دوسرے کے وجود میں قدرتی تھیں۔کوئی اگر بیمار ہو جاتا تو حضرت میر صاحب احباب کو لے کر اس کی عیادت کو جاتے اور بعض اوقات جمعہ کے دن اپنے بھائیوں کے کپڑے دھونے