حیاتِ خالد — Page 888
حیات خالد 869 گلدستۂ سیرت ان چھ سات افراد کی شادی کی۔سارے اخراجات برداشت کیے۔ظاہری وسائل تو نہ ہونے کے برابر تھے لیکن ان سے اللہ تعالیٰ کا خاص معاملہ تھا۔سب انتظامات اور ضروریات اللہ تعالیٰ نے مہیا کیں اور اپنے عزیز خادم کو کسی طرح بھی پریشان نہ ہونے دیا۔ان کے جذبات صلہ رحمی کو قبولیت سے نوازا۔اللہ تعالی نے آپ کو عمل صالح کے ساتھ ایک غیر معمولی برکتوں والی زندگی سے نوازا۔آپ کی پیدائش ۱۴ را پریل ۱۹۰۴ء کو وضع کر یہ ضلع جالندھر میں ہوئی۔پرائمری کی تعلیم کے بعد آپ کو قادیان بھجوا دیا گیا۔ساری تعلیم مولوی فاضل تک پھر مربیان کی ٹرینگ تک آپ قادیان کے پاکیزہ ماحول میں رہے طالب علمی کے زمانہ سے ہی کئی دینی مشقوں میں آپ نمایاں حصہ لیتے رہے۔اور زندگی کے آخری لمحہ تک بفضل خدا کا میاب عملی زندگی کے طور پر عالم باعمل، صابر وشاکر اور ایک برگزیدہ، پر ہیز گار عظیم خطیب و مقرر ، مصنف اور مشہور و مؤثر قلمکار اور نامور فدائی احمدیت کے طور پر زندگی بسر کی اور بالآخر اپنے رب کریم قادر خدا کے حضور مورخہ ۳۰ رمئی ۱۹۷۷ء کو حاضر ہو گئے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرے۔ان کے جملہ عزیزوں دوستوں اور رفیق کار احباب کو اپنے خاص فضل و کرم سے نوازے۔حضرت مولانا کو سیر کا خاص شوق تھا اس سیر کا وقت بالعموم صبح کی نماز کے بعد کا ہوتا اور ایک خاص گروہ تھا جو اس سیر میں مولانا کے ساتھ شامل ہوتا بالعموم قریب کے ہمسائے مکرم صوفی بشارت الرحمن صاحب ، مکرم سیٹھ اعظم صاحب، مکرم مسعود احمد خان صاحب دہلوی ، مکرم نسیم سیفی صاحب اور بھی بعض دوست شامل ہو جاتے اور آتے جاتے علمی لطائف علمی ذوق کی باتیں اور دنیا میں کیا کچھ ہورہا ہے اس سیر کا ماحصل ہوتا۔حضرت مولانا میں ایک خاص وصف اور تھا۔یہ وصف تھا بیماروں کی بیمار پرسی۔بہت اہتمام سے بیماروں کے گھروں میں یا ہسپتال میں جا کر بیمار پرسی کرتے۔دعا کرتے بعض اوقات ان کے لئے تحفہ بھی لے جاتے۔اپنے ساتھیوں اور ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ بہت پیارا اور محبت کا سلوک رکھتے اللہ تعالی بے حد جزا دے۔کسی کا رکن کو ان سے کبھی کوئی شکوہ نہ ہوا۔شوق سے شکار کے لئے جاتے اپنے ساتھ عزیزوں کو لے جاتے۔کبھی پیسہ دے کر بعض لوگوں سے شکار کرواتے اور وہ شکار حاصل کرتے اور اس طرح اپنی روحانی صحت کے ساتھ جسمانی صحت کا بھی خاص خیال رکھتے۔صحت جسمانی کے لئے ضروری تدابیر اختیار کرنے میں سعی فرماتے۔