حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 887 of 923

حیاتِ خالد — Page 887

حیات خالد 868 گلدسته سیرت آپ کے سامنے اللہ تعالیٰ بیٹھے ہیں۔انتہائی عاجزی و انکساری کے ساتھ مولانا اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہیں۔اکثر اسی حالت میں دیکھا۔جب دعا کرتے تو بہت ہی خضوع اور الحاج سے دعا کرتے۔بفضل خدا بہت کچی خوا ہیں اور انکشافات ہوئے۔اس بات کی بے چینی اور تڑپ رہتی کہ یہ روح ان کے ساتھیوں میں بھی رونق پذیر ہو۔حضرت مولانا کو یہ بھی تڑپ رہتی کہ ان کی اولا د خدمت دین کے لئے وقف ہو۔ان کی پہلی بیٹی عزیز و امتہ اللہ خورشید جو آپ کی پہلی بیگم سے تھیں اور مصباح کی مدیرہ تھیں ان سے مولا نا بہت خوش تھے کہ ان کی بیٹی کو خدمت دین کی توفیق مل رہی ہے۔جب عزیزہ امتہ اللہ خورشید کی وفات ہوئی تو آپ کو جس بات کا بے حد صدمہ ہوا وہ یہ تھا کہ پہلی اولاد سے بیٹی ہی تھی جو خادم دین تھی۔چنانچہ اس حسرت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیٹے عزیز عطاء الکریم صاحب کو کراچی خط لکھا ( وہ بی اے کر کے وکالت کی تعلیم لے رہے تھے ) کہ میری تو تمنا اور خواہش تھی کہ میرے بیٹے واقف زندگی ہوں۔خادم دین ہوں۔بیٹی خادمہ دین تھی وہ وفات پا گئی ہے۔اس محل کا ملنا تھا کہ عزیز عطاء الکریم پر ایک خاص اثر ہوا وکالت کی تعلیم ترک کی اور سیدھے ربوہ آ کر وقف کر دیا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے دوسرے بیٹے عزیز مکرم عطاء المجیب صاحب کو بھی خدمت دین کے لئے وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اور ایسے رنگ میں تعلیم دلوائی کہ زیادہ سے زیادہ احسن رنگ میں خدمت دین کی توفیق یا سکیں۔حضرت مولانا ابو العطاء جالندھری کو اللہ تعالیٰ نے اپنے احباب کی خدمت اور مہمان نوازی کی بھی دل کھول کر تو فیق دی تھی۔اگر چہ ذرائع آمد ایسے وسیع نہ تھے۔لیکن جب بھی کوئی موقع ہوتا ان کا دستر خوان وسیع ہوتا۔کئی مرتبہ دیکھا حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب جب بھی ربوہ آتے تو حضرت مولا نا متعدد احباب کے ساتھ چوہدری صاحب کے اعزاز میں دعوت دیکر ایک خاص مسرت محسوس کرتے اپنے ساتھیوں کو اپنے ملنے جلنے والوں کو بھی اکثر بلا لیتے اور مل کر بیٹھتے۔کھانا کھاتے۔علمی باتوں کا چرچا ہوتا۔غریبوں اور مسکینوں کے ساتھ خاص سلوک تھا۔خاموشی سے کئی ایک کی مالی امداد بھی کرتے۔حضرت مولانا ایک متوکل انسان تھے۔اور وہ اپنی جناب سے مولانا کو رزق پہنچا تا رہا اور خوب پہنچا تا رہا۔ان کی ہر ضرورت کو پورا فرما تا رہا۔ہر سچا خادم دین اس لذت سے خوب آگاہ ہے۔یہ ایک لمبی داستان ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے عزیز و عاجز خادموں کو کبھی نہیں بھولتا۔زمین و آسمان سے ان کے لئے مائدہ کا نزول فرماتا رہتا ہے۔حضرت مولانا کی پہلی بیگم سے بھی بچے تھے۔اور آپ کے بھائی بھی آپ کے زیر کفالت تھے۔