حیاتِ خالد — Page 886
حیات خالد 867 گلدسته سیرت دیا۔کہنے لگے تمہارے ذہن میں اس وقت ہے فوراً لکھ دو۔آخر لکھوا کر راضی ہوئے اور اسے الفرقان میں شائع کیا۔اور خوش ہوئے۔بہت حوصلہ افزائی نو جوانوں کی بھی اس معاملہ میں کرتے۔محترم مولانا اس بات میں بفضل خدا بہت مستعد تھے اور کسی لکھے ہوئے مضمون شذرہ اور تحریر پر نہ صرف خوش ہوتے بلکہ اسے شائع کرتے۔الفرقان تو بہت مقبول رسالہ ہو گیا تھا۔ایک دفعہ ربوہ میں ایوان محمود میں رسالہ کی ۲۵ برس کی جوبلی منائی جس میں ہمارے پیارے موجودہ امام کو خاص طور پر بلایا۔ان سے ویسے بھی خاص پیار تھا۔وقف جدید کے ممبر بھی تھے۔الفرقان کو ہمیشہ سب نے سراہا کہ الفرقان تو حضرت مولانا کی خاص جد و جہد اور کوشش کا نتیجہ ہے۔اس کے مینیجر بھی تھے۔ایڈیٹر بھی تھے اور حساب کتاب بھی رکھتے تھے۔سبھی کچھ وہ خود ہی تھے۔جیسا کہ ہمارے ثاقب زیروی صاحب ہیں۔لیکن الفرقان کو خوب چلایا۔بہت اونچا معیار قائم کیا۔ان مضامین ، شذروں سے تو غیر بھی فائدہ اٹھاتے اور مولانا کی اس جدو جہد کو خوب سراہتے اور داد دیتے۔شوق سے رسالہ پڑھتے۔ا حضرت مولانا نے صرف نظارتوں میں ہی کام نہیں کیا بلکہ جامعہ احمدیہ کے پرنسپل بھی رہے۔اس حیثیت سے اپنے طالب علموں کو بہت سلیقہ سے اور خوبی سے تقریروں کی مشق سے آشنا کیا۔آپ میں ایک خاص وصف یہ بھی تھا کہ اپنے طالب علموں کو غیر از جماعت بڑے بڑے علماء کے پاس لے جاتے ، ان سے ملواتے اور ان سے باتیں کرواتے۔چنانچہ ایک دفعہ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے پاس لے گئے۔مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری میں مزاح کا مادہ بھی تھا۔مولانا ابوالعطاء صاحب سے مزاح سے بھی باتیں کیں اور طالب علموں سے بھی ان کی گفتگو ہوئی۔اس طرح طالب علموں سے جھجک دور کرنے کا یہ طریق خاص طور پر اختیار کر رکھا تھا۔حضرت مولانا بہت اچھے رفیق سفر تھے۔اس عاجز کو متعد د سفر حضرت مولانا کے ساتھ کرنے کا موقعہ ملا۔ایسٹ پاکستان کا ، پھر بنگلہ دیش کا ، سندھ کا، کراچی کا ، سرگودھا کا۔اور متعدد مقامات میں جماعتی جلسوں میں، انصار اللہ کے جلسوں میں، خدام کے اجتماعوں میں، حضرت خلیفہ اس الثالث قبل از خلافت ان کے ساتھ اور پھر حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے ساتھ سفر کیے۔بڑے لمبے سفر کیے۔ان سفروں میں عاجز نے خاص طور پر مولانا کو دیکھا۔ان کی عبادت میں سفروں کی تکالیف اور بے آرامی میں بھی کوئی کمی نہیں دیکھی حتی کہ سفروں ، ٹرینوں میں تہجد کے وقت اٹھتے ہوئے اور اس فریضہ کو احسن طور پر بجا لاتے۔جب بھی میں نے مولانا کو دیکھا نماز پڑھتے ہوئے۔خدا شاہد ہے۔یوں معلوم ہوا کہ