حیاتِ خالد — Page 883
حیات خالد 864 گلدستہ سیرت ربوہ میں مولانا کی نوازشات سے بہت دفعہ بہرہ ور ہوا۔وہ کسی نہ کسی بہانے اپنے گھر پر اجتماع کرتے اور مہمانوں کی تواضع کر کے اپنا جی خوش کر لیا کرتے تھے۔آخری تقریب جس میں مجھے شرکت کا موقع ملا ان کے بیٹے مکرم عطاء الکریم صاحب کی بطور مبلغ لائبیریا کو روانگی تھی۔جس روز انہیں جانا تھا اس روز صبح ناشتے کی دعوت تھی۔بہت سے احباب مدعو تھے۔چائے کے بعد فوٹو ہوئی جو الفرقان کے کسی شمارہ میں شائع ہو چکی ہے۔اپنے بیٹے سے یہ ان کی آخری ملاقات تھی مگر اس وقت یہ بات کسے معلوم تھی؟ ایک مرتبہ میں نے مولانا کو اپنے ہاں مدعو کیا۔ہمارا میٹھنے کا کمرہ کھانے کے کمرے سے ملحق ہے اور دونوں مل کر کافی کشادہ رقبہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔بیٹھتے ہی فرمایا یہ تو ہال ہے کیا ہی اچھا ہو کہ حضرت صاحب یہاں بیٹھے ہوں اور قرآن کریم کا درس ہو رہا ہو ! اس واقعہ سے ان کی اندرونی خواہش اور لگن کا اندازہ ہوسکتا ہے۔مولانا کی ساری عمر درس و تدریس میں گزری۔کچھ عرصہ وہ تعلیم الاسلام کالج میں دینیات کے پروفیسر بھی رہے اس طرح ہمیں ان کی رفاقت کا شرف بھی حاصل ہوا۔کالجوں میں سٹاف روم کا ماحول وکیلوں کے بار روم سے ذرا ہی ثقہ ہوتا ہے۔اکثر اساتذ و لو جوان تھے۔مولانا کا مقام اور مبلغ علم مسلم تھا تا ہم ہنسی مذاق میں کوئی فقرہ چست ہو جاتا تو کبھی برا نہ مانتے بلکہ بچوں کی سی معصومیت کے ساتھ مذاق میں شریک ہو جاتے۔ان کا نمایاں وصف ان کا قلب سلیم اور اطاعت شعاری تھی۔اوّل خلافت ثانیہ اور بعد میں خلافت ثالثہ کے زمانے میں انہیں اہم فرائض سونپے گئے جو انہوں نے ہمیشہ خندہ پیشانی اور خلوص کے ساتھ ادا کئے۔اطاعت کا مادہ اس قدر تھا کہ وہ خلیفہ وقت کے ہاتھ گویا ایک آلہ بن جاتے تھے کہ جس طرح امام چاہے اس سے کام لے۔اس اطاعت کے ساتھ ساتھ ادب کی حد کے اندر رہتے ہوئے بے تکلفی کا عنصر بھی ہوتا جو بجائے خو د فطرت صحیحہ اور خلوص کا ایک اہم جزو ہے۔وفات سے تین روز پہلے جمعہ کی نماز کے بعد آپ گھر کی طرف روانہ ہوا ہی چاہتے تھے کہ میں بھی مسجد سے نکلا۔میں نے عرض کی کہ تشریف رکھیں آپ کو کار پر چھوڑ آتا ہوں۔مزاج پرسی پر فرمایا کہ ویسے تو ٹھیک ہوں مگر کمزوری بہت ہے۔میں نے کہا غذا کا خیال رکھیں۔فرمایا حتی المقدور ایسا کرتا ہوں تم بتاؤ غذا کیسی ہو؟ اتنے میں ہم دار الرحمت کا موڑ مڑے۔فرمانے لگے کہ آگے سڑک بچی ہے تم کار