حیاتِ خالد — Page 882
حیات خالد 863 مخلص اور خوش اخلاق عالم گلدستۂ سیرت محترم ڈاکٹر نصیر احمد خاں صاحب ربوہ ) مخلص عالم تو آپ کو دنیا میں بہت سے مل جائیں گے مگر خوش اخلاق عالم خال خال ہی ملیں گے۔نماز روزہ کی پابندی کرنے والوں کے چہرے پر نور تو اکثر ہوتا ہے مگر مسکراہٹ بہت کم۔وضو کے فیض سے شاداب داڑھیاں روز دیکھنے میں آتی ہیں مگر آنسوؤں سے نم داڑھیاں کمیاب ہیں۔مزاح سے حظ اٹھانے والے علماء بھی میسر آجاتے ہیں مگر مذاق کو خوش دلی کے ساتھ برداشت کرنے والے کبھی کبھار ملتے ہیں۔عالم بے بدل اور فاضل اجل بھی ہوتے ہیں مگر اپنے وعظ پر عمل کی مہر لگانے والے نایاب ہیں۔جہنم کی آگ سے ڈرانے والے عام ہیں مگر جنت کی خوشیوں کی بشارت دینے کا حوصلہ ہر کسی میں نہیں ہوتا۔مفلسی میں مہمان نوازی سے حظ اٹھانے والے کہاں ملتے ہیں۔لائق استاد تو بسا اوقات میسر آ جاتے ہیں مگر محبت کرنے والے استاد مشکل ہی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ان کمیاب اوصاف سے۔متصف ایک عالم کا انتقال حال ہی میں ہوا ہے اس کی موت کے بعد احساس ہوا کہ ہم نے کیا چیز کھو دی۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم سے پہلا تعارف ۴۴ - ۱۹۴۳ء میں ہوا۔میں اس وقت ایف سی کالج لاہور میں پڑھتا تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد تھا کہ واقفین زندگی گرمیوں کی چھٹیوں میں قادیان آ کر قرآن کریم اور حدیث کا درس لیا کریں۔اس سال اس ارشاد گرامی کے مخاطب ہم دو تھے ، مکرم چوہدری ناصر محمد صاحب سیال اور خاکسار۔قرآن کریم کے درس کے لیے حضرت مولانا ابوالعطاء مقرر ہوئے۔چنانچہ چند ہفتے ہم نے محاورہ کے مطابق آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔میں اپنے آپ کو ان کے شاگردان رشید میں تو شمار نہیں کرتا البتہ ان کا ایک نالائق شاگر دضرور ہوں۔اس زمانے کا تاثر بھی میرے دل پر یہی ہے کہ مولانا کی طبیعت میں سختی بالکل نہ تھی بلکہ نرمی غالب تھی۔بعد میں یہ تاثر زیادہ پختہ ہوتا گیا۔ذہن کے پردے پر کئی واقعات نقش ہیں۔لدھیانہ میں جلسہ مصلح موعود کے موقعہ پر مخالفت جوش میں تھی۔جس مکان میں پہلی بیعت ہوئی تھی وہ شہر کے اندر تھا۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی مکان مذکور کی طرف روانگی سے قبل حضرت مولانا ایک گروہ کے ساتھ پیدل مکان کی طرف روانہ ہوئے اور حضور ایک دوسرے راستے سے بخیریت منزل مقصود پر پہنچ گئے۔