حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 884 of 923

حیاتِ خالد — Page 884

حیات خالد 865 گلدستۂ سیرت واپس کر لو۔تھوڑا سا فاصلہ ہے میں پیدل چلا جاؤں گا۔یہ ان سے آخری ملاقات تھی۔دو روز بعد میرا چھوٹا بیٹا عزیز منیر احمد خان مغرب کے بعد ان کا بلڈ پریشر دیکھنے گیا۔آپ اس سے باتیں کرتے رہے اور دوبارہ آنے کے بارے میں اسے کہا کہ کل پھر آ کر دیکھ جانا۔صبح سویرے یہ خبر ملی کہ مولانارات بارہ بجے انتقال فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔ان کے گھر تعزیت کے لئے پہنچے تو دیکھا کہ ان کی نفش اس کمرے میں رکھی تھی جہاں چند ماہ قبل انہوں نے جناب حکیم مبارک احمد خان صاحب ایمن آبادی کی آمد پر مجھے اور بعض اور دوستوں کو چائے پر مدعو کیا تھا۔وَ يَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ - ☆ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب مولانا شیخ مبارک احمد صاحب مرحوم سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ) بہت مدت سے خواہش تھی کہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے متعلق ذکر خیر کے طور پر کچھ لکھوں۔کئی دفعہ ارادہ ہوا۔لکھنا بھی شروع کیا لیکن کوئی نہ کوئی روک پیدا ہوتی رہی۔دوسری مصروفیات نے کما چت اس فریضہ کے ادا کرنے کی سعادت سے محروم رکھا۔حالانکہ ایسے بزرگ، نامور خادم دین اور پر ہیز گار عالم باعمل اور عبادت گزار کا ذکر تو خود ایک بڑی نیکی ہے اللہ کا شکر ہے کہ آج اس عاجز کو اپنے ایک خاص بزرگ رفیق اور فاضل بزرگوار کے بارہ میں لکھنے کی توفیق مل رہی ہے۔محترم مولانا اس عاجز سے دو تین۔سال سینئر تھے۔اس عاجز کو محترم مولانا سے اس وقت سے تعارف ہے جب آپ مربیان کی کلاس میں تعلیم حاصل کرتے تھے اور مشفق و محسن بزرگ استاد حضرت حافظ روشن علی صاحب سے آپ کو تلمذ کا شرف حاصل تھا۔خوب یاد ہے اس وقت سے ہی آپ کو پوری فکر مندی سے دینی تعلیم کے حصول کا شغف تھا۔اور محنت کے عادی تھے۔ان دنوں کی بات ہے آپ نے ایک نوٹ بک تیار کی ہوئی تھی۔اس میں تمام ضروری قرآنی آیات کے حوالہ جات اور احادیث کے حوالہ جات لکھے ہوتے تھے انہیں زبانی یاد کر رہے ہوتے تھے۔میں نے دو نوٹ بک دیکھی تھی۔تمام ضروری آیات جو مختلف مسائل سے تعلق رکھتی تھیں اور احادیث جن کی ضرورت پیش آتی تھی اس میں درج تھیں انہیں آپ نے حفظ کر رکھا تھا۔بوقت ضرورت تقریر کے دوران یا کسی بحث کے دوران آپ آسانی سے حوالہ نکال لیتے۔ابتداء میں حضرت استاذی الحترم حافظ