حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 798 of 923

حیاتِ خالد — Page 798

حیات خالد 787 گلدسته سیرت وَا أَسَفًا عَلَى فِرَاقِ قَومِ والے افسوس ان لوگوں کے رخصت ہو جانے پر هُمُ الْمَصَابِيحُ وَالْحُصُون جو رہ دکھانے کیلئے ) چراغوں اور (پناہ دینے کیلئے ) قلعوں کی حیثیت رکھتے تھے۔وَالْمُدَنُ وَالْمُزَنُ وَالرَّوَاسِئ اور وہ شہروں ( کی طرح آباد ) اور بارش ( کی وَالْخَيْرُ وَالامُنُ وَالسُّكُون طرح فیض رساں ) اور محکم پہاڑوں کی طرح مضبوط اور متمام) تھے اور وہ سراسر بھلائی اور امن اور سکون کی علامت تھے۔نَا اللَّيَالِي ان کی وجہ سے راتیں بھی ہماری مخالف نہیں ہوئیں المَنُونُ تھیں لیکن ان کی وفات کے بعد سب کچھ ہمارے خلاف ہو گیا ہے۔كُلُّ جَمْرِ لَهُ قُلُوبٌ اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہمارے دل آگ کے وَكُلُّ مَاءٍ لَنَا عُيُونُ انگاروں کی طرح ہو گئے ہیں اور ہر آنکھ ایک چشمہ رواں بن گئی ہے۔اللہ تعالیٰ حضرت مولانا موصوف کے درجات جنت الفردوس میں بلند فرماتے ہوئے اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمائے اور ان کی اولاد کو مقبول اور نتیجہ خیز خدمات بجا لاتے ہوئے اور اعمال صالحہ مداومت سے سرانجام دے کر حضرت مولانا موصوف کی مزید بلندی درجات کا موجب بنائے۔آمین محترم مولانا شیخ نور احمد منیر صاحب رقم فرماتے ہیں:۔فضیلہ الاستاد ابوا العطاء الجالندھری، دلآویز شخصیت، عالم باعمل، فکر و نظر میں ممتاز حیثیت رکھنے والے جن کا قلم سیال اور جبار، لیل و نہار خدمت اسلام میں صفحہ قرطاس پر موتی بکھیرتا اور جو سٹیج پر عربی اور اردو کے فصیح اور بلیغ البیان لیکچرار تھے۔جن کی تحریر اور تقریر مدلل اور پر شوکت۔جن کی زندگی کا ہر منٹ اور سیکنڈ خدمت اسلام کے لئے وقف تھا۔مرحوم بہت ہی مصروف اور سلسلہ کے کثیر الاشغال بزرگ تھے۔آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی عظیم مصروفیات کا علم ہوتا تھا۔آپ وہ مجاہد اسلام تھے جنہوں نے بلاد عربیہ میں پادریوں سے عظیم مناظرے کئے اور یہ مناظرے شائع شدہ موجود ہیں۔مباحثہ مصر ایک شاندار مناظرہ ہے۔جس میں چوٹی کے عیسائی