حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 799 of 923

حیاتِ خالد — Page 799

حیات خالد 788 گلدستۂ سیرت پادریوں نے حصہ لیا۔مگر جماعت احمدیہ کے مجاہد اسلام ابو العطاء نے ان کا طلسم ریزہ ریزہ کر دیا۔اور سننے والوں نے کہا کہ یہ مباحثہ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِل کی متحرک تصویر ہے۔آپ نے اسلام کے دفاع میں پادریوں کو هَلْ مِن مُبارز؟ کے الفاظ میں پھیلنج دیئے اور ان پر اتمام حجت کی اور اسلام کا الفضل ۳ / جولائی ۱۹۷۷ء صفحه ۴ ) بول بالا ہوا۔مکرم ممتاز حسین صاحب امتیاز سابق کا رکن صدرا الجمن احمد یہ حال کینیڈا نے لکھا:- حضرت مولوی صاحب پایہ کے خطیب و مناظر ، بہترین منتظم، اور بلند پایہ صحافی تھے۔اپنے ہر مقام کا حق انہوں نے ادا کر دیا۔اور ہمارے لئے سینکڑوں ہزاروں عمل کے نمونے چھوڑے جن سے ہم زندگی کی کامرانیوں کے حصول میں مدد حاصل کر سکتے ہیں۔آپ کی یاد ہمارے سینوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔خدا تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام قرب سے نوازے۔آمین؟؟ الفضل ۲۷ جولائی ۱۹۷۷ء صفحہ ۶ ) مکرم امداد الرحمن صاحب صدیقی مربی سلسلہ بنگلہ دیش لکھتے ہیں :- ایک سفر میں خاکسار حضرت مولانا کے ہمرکاب تھا۔لاہور کے ایک جلسہ میں تقریر کے لئے مولانا کے ہمراہ ہمیں بھی جانے کی سعادت حاصل ہوئی۔میں طالب علم تھا اس لئے یہ موقع مل گیا۔بعض دیگر علماء بھی ساتھ تھے۔میں نے دیکھا کہ حضرت مولانا ابو العطاء میں غیر معمولی خوبیاں اور صفات پائی جاتی تھیں۔میں نے جانا کہ مولانا کے اندر ہر گز طمع یا لالچ کسی چیز کا نہ تھا۔بہت ہی بے نفس شخصیت تھے۔پھر ایک بات یہ دیکھی کہ مولانا بہت سادہ لباس میں تھے۔بالکل عام کپڑے پہنے ہوئے۔شلوار بالکل معمولی تھی۔کپڑے سفید رنگ کے تھے۔اور تعجب ہوا کہ شلوار کو استری بھی نہ کی گئی تھی۔مگر لباس بہت صاف ستھرا تھا۔پھر ایک اور بات یہ دیکھی کہ مولا نا خود نمائی پسند نہ فرماتے تھے۔وہ یہ بھی پسند نہ کرتے تھے کہ ان کی تعریف کی جائے یا عزت کی جائے وہ اپنی حیثیت کو بالکل معمولی رکھتے تھے۔محترم مولانا عزیز الرحمن صاحب منگلا مربی سلسلہ مرحوم لکھتے ہیں :- الفرقان کے ذریعہ مولانا ابو العطاء صاحب سے گہرا تعلق رہا۔میں ابتدائی زمانہ میں ان کو چک منگلا بھی لے گیا۔میری عربی نظمیں محبت کے ساتھ اور اعزاز کے ساتھ الفرقان میں شائع فرماتے رہے۔وفات سے تین دن پہلے میں دفتر میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں چند آدمیوں کو لے کر حضور سے ملاقات کے لئے آیا ہوں۔فرمایا " میرے پاس مت بیٹھو۔فورا حضور کے دفتر میں جا کر نام لکھاؤ یہ