حیاتِ خالد — Page 797
حیات خالد 786 گلدستۂ سیرت بے پناہ جوش۔شفقت علی خلق اللہ کا خصوصی رحجان ، خلافت سے والہانہ محبت اور اطاعت کا ارفع و اعلیٰ نمونہ۔غرضیکہ اصحاب احمد کی جملہ خوبیاں آپ میں نمایاں تھیں۔خاکسار کو میٹرک کے طالب علم کی حیثیت سے ۱۹۳۲ء تا ۱۹۳۴ء کے عرصہ میں قادیان رہنے کا موقع ملا۔مرکز میں جن بزرگان و علماء سلسلہ سے خاکسار کو گہری عقیدت تھی ان میں سے ایک حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری تھے۔اس عقیدت مندی کا بے ساختہ مظاہر ہ ۱۹۳۳ء میں ایک دن اس طرح سامنے آیا کہ کڑکتی دھوپ کی گرمی میں خاکسار اپنے ایک رشتہ دار مکرم عزیز احمد صاحب بھا گلوری کی معیت میں سائیکل پر سوار ہو کر موضع دینہ گیا۔یہاں پر حضرت مولانا کا آریوں سے مباحثہ تھا۔شدت گرمی کے باعث سائیکل نے راستہ میں جواب دے دیا۔نہر کے کنارے کنارے سفر ہو رہا تھا۔کسی دوکان کا ملنا ممکن نہ تھا۔حضرت مولانا کا مناظرہ سننے کے شوق کا یہ عالم تھا کہ پا پیادہ دینہ پہنچے۔مگر وائے حسرت اکہ ہم تاخیر سے پہنچے۔مناظر و فاتحانہ شان سے ختم ہو چکا تھا اور احمد دی لوگ خوشی خوشی واپس آرہے تھے۔بہر حال یہ حضرت مولانا کے علم و فضل کی شہرت کا اثر تھا کہ نا مساعد حالات میں بندہ نے نوعمری میں اس کٹھن سفر کا قصد کیا اور راستے کی ہر قسم کی صعوبت کو بطیب خاطر برداشت کیا۔حضرت مولانا کی طبیعت میں بناوٹ یا تکلف بالکل نہ تھا۔اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار بڑی صفائی سے فرما دیتے اس لئے آپ کی معیت میں رہنے سے خاکسار کو کسی احساس کمتری کا سامنانہ کرنا پڑتا بلکہ آپ کی معیت میں ایک خدا رسیدہ بزرگ اور ایک ہمدرد اور مخلص دوست دونوں قسم کے فیض حاصل ہوتے تھے۔افسوس اور آج ہم میں نہیں ہیں۔اللہ تعالی انہیں جنت الفردوس میں درجات کی بلندی سے نوازے اور ان کی نیک خوبیوں کا سلسلہ ان کی اولاد میں جاری رکھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی اولا د خدمت دین کے راستہ پر گامزن ہے اور یہ امر بہت ہی مسرت کا باعث ہے کہ وہ اپنے بزرگ والد کے رنگ میں رنگین ہیں۔اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے نوازے اور آسمان احمدیت کے چپکتے ہوئے ستارے بنائے۔آمین ه محترم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب سابق امیر ومبلغ انچارج غانا، امریکہ، جرمنی وفلسطین لکھتے ہیں :- حضرت مولانا کا وجود یقیناً ان اشعار کا مصداق تھا جو حضرت جنید بغدادی کی وفات پر آپ کی قبر پر کھڑے ہو کر بغداد کے کھنڈرات میں رہنے والے ایک مجذوب نے پڑھے تھے۔