حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 796 of 923

حیاتِ خالد — Page 796

حیات خالد 785 گلدستۂ سیرت گئے جس طرح ان کا وجود دنیا میں تھا ہی نہیں۔لیکن کیا ہی خوش قسمت وہ وجود ہوتے ہیں جو دنیا سے غائب ہونے پر بھی دنیا میں موجود ہوتے ہیں۔ان کے نیک اعمال ان کے نام کو ہمیشہ باقی رہنے دیتے ہیں۔گویا وہ خدا کی گود میں اور اس کی بے پناہ محبت میں ہوتے ہیں۔واقعی ایسے لوگ ”خالد“ کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں۔پھر وہ انسان کتنا عظیم ہوتا ہے جس کو خدا کا خلیفہ "خالد" کا خطاب دے۔انہی میں سے ایک استاذی المکرم حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری تھے۔آپ کے اندر وقف کی حقیقی روح پائی جاتی تھی۔آپ متوکل علی اللہ انسان تھے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف خود کو وقف کیا اور خدا کے راستہ میں تکالیف اٹھا کر کئی نیک روحوں کو سلسلہ کے اندر داخل کیا بلکہ اپنی اولادکو بھی خدا کے رستہ میں وقف کر دیا۔تھوڑے ہیں جو اپنے اندر یہ جذبہ رکھتے ہیں۔آپ کا نصائح کرنے کا طریق بڑا موثر اور ہمدردانہ ہوتا تھا۔سننے والے کے دل میں آپ کی نصیحت دل کی گہرائیوں میں اترتی چلی جاتی۔خاکسار نے نجی جانے سے قبل آپ سے بغرض دعا ملاقات کی۔آپ نے فرمایا ” اپنے مقصد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔یہ میری ان سے آخری ملاقات تھی۔حضرت مولانا حقیقت میں ایک قومی وجود تھے۔اللہ تعالی نے ان کو بہترین اور تعظیم الشان خوبیوں سے نواز رکھا تھا۔ہمارے لئے آپ بہترین نمونہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کا رہائے نمایاں انجام دینے کی توفیق دی اس سے آپ کا نام ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔محترم چوہدری شبیر احمد صاحب وکیل المال تحریک جدید رقم فرماتے ہیں :- حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کا نام نامی جب بھی یاد آتا ہے تو آنمکرم کی سب سے پہلی زیارت کا مقام بھی یاد آ جاتا ہے۔قادیان دارالامان کی مسجد اقصیٰ سے ابھرتے ہوئے مینارة ابیح کے دامن میں آپ کی پرکشش شخصیت بطور استاد کے اور عاجز کا بطور شاگرد کے مختلف جماعتوں سے آئے ہوئے خدام وانصار کی معیت میں آئمکرم سے استفادہ کرنا ایسے مناظر ہیں جو بھلائے نہیں جا سکتے۔آپ کے خالد احمدیت کے خطاب کا کس کو علم نہیں۔تقریر وتحریر میں روانی اور براہین قاطعہ کا استعمال آپ کی تحریر و تقریر کی جامعیت کو روشن اور نمایاں کر کے رکھ دیتی تھیں۔لیکن ہندو کو تقریر کے دوران آپ کے چہرہ مبارک پر جو ایک خاص نور نظر آتا تھا وہ آج کی نسل نہیں دیکھ سکتی۔خاکسار تو آج بھی اس سے لطف اندوز ہوتا ہے۔حضرت مولانا اگر چہ اصحاب حضرت مسیح موعود میں شامل نہیں تھے مگر لاریب حضرت مولانا کی ذات بابرکات میں اصحاب حضرت مسیح موعود کا سا رنگ تھا۔دعوت الی اللہ کا